ریاست کے تمام ضلع کلکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ آنگن واڑی سیویکاؤں کی مدد سےدرخواست گزار خواتین کے گھر گھر جاکر ان کی تصدیق کی جائے اور ای کے وائی سی پر فیصلہ کیاجائے۔
آنگن واڑی سیویکاؤں نےبہت سےفارم بھرے تھے۔ تصویر: آئی این این
ممبئی،(اقبال انصاری):مکھیہ منتری میری لاڈلی بہن یوجنا سے استفادہ کرنے والی کئی خواتین تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے اپنا ’ای کے وائی سی ‘مکمل نہیں کر سکی تھیں ۔ ان میں سے کئی کی ای کے وائی سی میں پوچھے گئے پیچیدہ سوالات کے غلط جوابات کی وجہ سے انہیں ماہانہ ۱۵۰۰؍ روپے وظیفہ کی قسط ملنی بند ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے ان لاڈلی بہنوں میں زبردست عدم اطمینان پیدا ہوگیا ہے۔ان خواتین کی بے اطمینانی کو دور کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئےکہ انہیں لاڈ لی بہن یوجنا کی قسطیں وقت پر ملیں، حکومت نے آنگن واڑی کارکنوں کی مدد لینے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست کے تمام ضلع کلکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ آنگن واڑی سیویکاؤں کی مدد سےدرخواست گزار خواتین کے گھر گھر جاکر ان کی تصدیق کی جائے اور ای کے وائی سی پر فیصلہ کیاجائے۔ تاہم آنگن واڑی سیویکاؤںنے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ اس لئے اب یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا لاڈ لی بہن یوجنا کا ای کے وائی سی عمل مکمل ہو سکے گا یا التواء کا شکار ہو جائے گا ؟اس سلسلے میں ریاست کی خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر آدیتی تٹکرے نے ’ایکس‘ پر یہ اطلاع دی تھی۔ تاہم اس فیصلے پر عمل آوری سے قبل ہی آنگن واڑی ورکرس ایسوسی ایشن نے گھر گھر سروے کرنے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ لاڈ لی بہن اسکیم کے سروے کی ذمہ داری ان پر عائد کرنے سے آنگن واڑی ورکرس کے بنیادی کام بری طرح متاثر ہوں گے۔مہاراشٹر اسٹیٹ آنگن واڑی ورکرس اسوسی ایشن نے انتباہ دیا ہے کہ اگر حکومت اس فیصلے کو واپس نہیں لیتی ہے تو وہ ریاست کے تمام ضلع کلکٹر دفاتر میں احتجاج کرے گی۔
ایک آنگن واڑی سیویکاسنديا جادھو کے مطابق جب لاڈلی بہن اسکیم شروع کی گئی تھی تو ہمیں مستحق خواتین کی درخواستیں بھرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اب اگر ہمیں دوبارہ فزیکل ویریفکیشن کی ذمہ داری دی جاتی ہے تو یہ سب سے زیادہ وقت طلب ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر گھر گھر سروے مکمل کرنے کے بعد بھی کسی خاتون کے اکاؤنٹ میں رقم جمع نہیں ہوئی تو وہ ہمیں ذمہ دار ٹھہرائے گی۔ اس سے ہمارے دوسرے آنگن واڑی کام متاثر ہوں گے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ آنگن واڑی ورکرس اسوسی ایشن کے آرگنائزنگ سیکریٹری راجیش سنگھ نے بتایا کہ آنگن واڑی سیویکاؤں پر لاڈلی بہن اسکیم کے ساتھ دیگر اسکیم کی ذمہ داری بھی تھوپ دی گئی ہے ۔ اس کی وجہ سے ریاست میں غذائی قلت بڑھ رہی ہے اور ہائی کورٹ نے بھی تغذیہ سے موت کا نوٹس لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں آنگن واڑی ورکرس کا مطالبہ ہے کہ آنگن واڑی ورکرس کو اضافی اسکیم کی ذمہ داری نہ دی جائے۔ واضح رہے کہ خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور غذائیت کو بہتر بنانے کے مقصد سے ’مکھی منتری ماجھی لاڈ کی بہین یوجنا ‘(جسے مختصراً لاڈلی بہن یوجنا بھی کہا جاتا ہے)کو نافذ کیا گیاہے۔