• Mon, 26 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امیگریشن افسران کے ہاتھوں ایک اور امریکی شہری ہلاک، عوام سڑکوں پر

Updated: January 26, 2026, 12:40 PM IST | Agency | Los Angeles

ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف سخت برہمی ۔منیا پولیس سے ’آئس‘ ایجنٹوں کی واپسی کا مطالبہ۔ مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے اس واقعے کو ’ہولناک‘قرار دیا۔ تقریباً تین ہفتے قبل بھی اسی طرح ایک شخص کو قتل کیا گیا تھا۔

People are protesting on the streets in Los Angeles. Picture: PTI
لاس اینجلس میں لوگ سڑک پر اترکراحتجاج کررہے ہیں۔ تصویر:پی ٹی آئی
سنیچرکو وفاقی امیگریشن افسران کے ہاتھوں ایک امریکی شہری کی ہلاکت کے بعد زبردست  احتجاجی مظاہرے ہوئے  ۔ منیاپولس میں رواں ماہ اس طرح کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ مقامی لیڈروں نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہر میں اپنا آپریشن ختم کرے۔وفاقی ایجنٹوں نے۳۷؍ سالہ آئی سی یو نرس ایلکس پریٹی کو ایک برفیلی سڑک پر جھڑپ کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ ’امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ  (آئس)‘  کے ایک افسر کے ہاتھوں۳۷؍ سالہ رینی گڈ کے اپنی کار میں قتل ہونے کے تین ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد پیش آیا ہے۔ مذکورہ بالا  واقعہ کے خلاف مظاہرین نے سڑکوں پر اتر کر   زبردست احتجاج کیاجنہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔’آئس‘ ایجنٹوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر دعویٰ کیا کہ پریٹی وفاقی ایجنٹوں کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا، بالکل ویسا ہی دعویٰ جیسا رینی گڈ کی موت کے بعد کیا گیا تھا۔ تاہم  واقعے کی ویڈیو ان کے اس بیان کی تردید کرتی نظر آتی ہے۔ ’محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی‘ نے ایک پستول کو بطور ثبوت پیش کیا جو ان کے بقول پریٹی سے برآمد ہوا۔
ہوم لینڈ سیکوریٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے ایک تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ ’’وہ وہاں تشدد پھیلانے کیلئے موجود تھا۔‘‘ جبکہ وہائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے پریٹی کو ’قاتل‘ قرار دیا جسے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔
تاہم رینی گڈ کی موت کی طرح  اس واقعے کی موبائل فون فوٹیج نے وفاقی حکومت کے بیان پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔’ڈی ڈبلیو‘ کی خبر کے مطابق امریکی میڈیا پر دکھائی جانے والی ویڈیو میں پریٹی کو برف سے ڈھکی سڑک پر ایجنٹوں کی فلم بندی کرتے اور ٹریفک کی رہنمائی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جب ایک ایجنٹ فٹ پاتھ پر ایک خاتون مظاہرین کو دھکا دے کر زمین پر گراتا ہے تو پریٹی ان کے درمیان آ جاتا ہے، ایجنٹ کی طرف سے اس کے چہرے پر کیمیائی سپرے کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایجنٹ پریٹی کو زمین پر گرا دیتا ہے اور کئی افسران اسے قابو میںکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چند سیکنڈ بعد جب ایک افسر پریٹی کی پینٹ سے بندوق نکالتا ہے تو ایجنٹ فائرنگ کر دیتے ہیں اور اس کے بے حس و حرکت جسم پر دور سے کئی بار گولیاں چلاتے ہیں۔
پریٹی کے والدین نے ایک بیان میں اسے ’مہربان روح‘ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ پر اپنے بیٹے کے بارے میں ’گھناؤنے جھوٹ‘ بولنے کا الزام لگایا۔ مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے اس واقعے کو ’ہولناک‘قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ریاستی حکام اس کی تحقیقات کریں۔ والز نے کہاکہ  ’’وفاقی حکومت پر اس تحقیقات کیلئے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست خود اسے سنبھالے گی۔‘‘
امریکی صدر کے احکامات پر غیر دستاویزی تارکین وطن کی بے دخلی کی مہم چلائی جا رہی ہے اور ہزاروں آئی سی ای ایجنٹ اس ڈیموکریٹک زیرقیادت شہر میں تعینات کئے گئے ہیں۔ اس ہفتے کے شروع میں ایک پانچ سالہ بچے کی حراست نے بھی عوامی غصے کو ہوا دی جسے وفاقی ایجنٹوں نے اس کے والد کی گرفتاری کے دوران پکڑا تھا۔
پولیس چیف برائن اوہارا نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور وہ ’بندوق رکھنے کا قانونی اجازت نامہ‘ رکھتا تھا۔ اسلحہ رکھنے کے حقوق کے حامیوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پریٹی کے قانونی اسلحے کو قتل کے ارادے سے کیوں جوڑا۔
دریںاثناء امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے   منیاپولیس کے میئر اور ریاست کے گورنر پر ’بغاوت پر اکسانے‘ کا الزام عائد کیا۔’العربیہ‘ کی خبر کے مطابق چند دن قبل وفاقی افسران کے ہاتھوں شہر میں ایک شہری کی ہلاکت پر میئر اور گورنر نے جو ردِ عمل دیا، صدر اس پر ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے۔ ڈیموکریٹک میئر جیکب فرے اور گورنر ٹم والز کے خلاف ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھاکہ ’’اپنی خطرناک اور متکبرانہ بیان بازی سے میئر اور گورنر بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں۔‘‘ٹرمپ نے پہلے بغاوت ایکٹ نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی جس سے وہ قانون نافذ کرنے کے مقاصد کیلئے مینیسوٹا میں فوج بھیج سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK