بلڈروں کے تنازع کے سبب بی ایم سی کی مخدوش عمارتوں کی از سر نو تعمیر میں ہونے والی تاخیر کے سبب کورٹ نے اسٹے دینے سے انکار کردیا اور مکینوں کو اپنے منتخب شدہ بلڈر سے تعمیرات کی اجازت دے دی ، کورٹ کےمطابق بلڈر کے تجارتی مفادات سے زیادہ مکینوںکو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی اورڈیولپرسے اپنا آشیانہ تعمیر کرائیں۔
بامبے ہائی کورٹ نے مکینوں کے حق میں فیصلہ سنایا۔ تصویر: آئی این این
لور پریل میں بی ایم سی کی کئی عمارتیں ۷۵؍ سال پرانی ہیں اور انتہائی مخدوش ہوگئی ہیں۔ ان عمارتوں کو از سر نو اسکیم کے تحت تعمیر کرنے کیلئے سابقہ بلڈرنے تعمیراتی کی ہامی تو بھری تھی لیکن کئی سال گزر جانے کے باوجود عملی طو رپر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تھا۔اس پرمخدوش عمارتوںکے مکینوں نے نئے بلڈر سےعمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر سابقہ بلڈر نےہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔تاہم کورٹ نے سابقہ سماعتوں کو سننے کےبعد بلڈر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسٹے لگا دیا تھا۔ بعد ازیں کورٹ نے گزشتہ روز ڈیولپرس کے تنازع کی وجہ سے مکینوں کو ہونے والی دشواریوں ، ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود تعمیرات کے سلسلہ میں کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھانے اور مکینوں کے پر خطر عمارتوں میں رہنے کے اسباب کو قبول کرتے ہوئےاسٹے کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا ہے ۔
یہی نہیں تقریباً ایک دہائی سے زائد عرصہ تک بلڈر کے عمارت تعمیر کرنے میں ناکامی پربامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس سندیپ مارنے نےمکینو ںکو راحت دیتے ہوئے ان کے منتخب شدہ بلڈر سے ازسر نو تعمیر کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔دوران سماعت لورپریل میں بی ایم سی کی ملکیت والی عمارتوں میں رہنے والے مکینوں کی اوم سائی رام کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی نے کورٹ کو بتایا کہ’’ مکین بی ایم سی کی جن عمارتوں میں رہائش پذیر ہیں وہ ۱۹۵۰ء کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی ۔تقریباً ۷۵؍ سالہ پرانی عمارتیں انتہائی مخدوش ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے مکینوں کو جان کا خطرہ بھی لاحق ہے ۔‘‘
سوسائٹی نے مزید کہا کہ ۲۰۱۴ء میں سوسائٹی بننے کے بعد’ آسون نامی بلڈر سے تعمیرات کا معاہدہ کیا گیا لیکن ایک دہائی سے زائدعرصہ گزر جانے کے باوجود مکینوں کو کرایہ کے مکان میں منتقل کرنے اور عمارت کو تعمیر کرنے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ یہی نہیں عمارت تعمیر کرنے کے لئے جو وقت طے کیا گیا تھا اسے تجاوز کرنے کے باوجود اس پر کام شروع نہیں کیا گیا ہے ۔مکینوں کے بقول یہی وجہ تھی کہ سابقہ بلڈر سے معاہدہ ختم کرکے ایک نئے ڈیولپر سے معاہدہ کیا گیا ہے ۔ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ بلڈر نے اس فیصلہ کو چیلنج کرکے اور اس معاملہ میں عدالت کو گمراہ کرکے اسٹے حاصل کیا ہے ۔یہ بھی بتایا گیا کہ سابقہ ڈیولپر بذات خود کسی اور بلڈر کے ذریعہ ہماری سوسائٹی تعمیر کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ کورٹ نےسابقہ سماعتوں میں بلڈر کے ذریعہ فراہم کردہ اطلاعات اور مکینوں کی دلیل اور مخدوش عمارت سے متعلق پیش کئے گئے جواز کا جائزہ لینے کے بعد بلڈر کے مذکورہ بالا معاملہ میں اسٹے کو برقرار رکھنے کی اپیل خارج کر دی ۔کورٹ نے کہا کہ’’ ایک دہائی سے زائد عرصہ تک تعمیرات کے سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھانے کے سبب سابقہ بلڈر نے تعمیرات کا حق کھو دیا ہے ۔اس کے علاوہ بلڈر کے تجارتی مفادات سے زیادہ مکینوںکو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی اورڈیولپرسے اپنا آشیانہ تعمیر کرائیں ۔‘‘کورٹ نے طویل عرصہ تک انتظار کرنے والے مکینوں کو راحت دیتے ہوئے ان کے منتخب شدہ بلڈر سے اپنی عمارات تعمیر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔