سنجے راؤت نے چیف جسٹس سے سوال کیاکہ جس کے خلاف پٹیشن زیر سماعت ہے اس ایکناتھ شندے کا گلدستہ چیف جسٹس کیسے قبول کر سکتے ہیں؟
شیو سینا (ادھو) کے ترجمان رکن پارلیمان سنجے راؤت ۔ تصویر: آئی این این
گزشتہ روزجب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت ممبئی آئے تو نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ہوائی اڈے پرگلدستہ دے کر ان کا خیر مقدم کیا تھا۔ اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے شیو سینا (ادھو) کے ترجمان رکن پارلیمان سنجے راؤت نے سوال اٹھایا ہے کہ جس شخص کے خلاف پٹیشن زیر سماعت ہے ، چیف جسٹس اس سے استقبال کیسے قبول کر سکتے ہیں؟ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیاکہ چیف جسٹس کےرویے کو دیکھ کر ایسامحسوس ہو رہا ہے جیسےانہیں مستقبل میں سیاست میں آنا ہے اور اسی لئے وہ سیاسی لیڈروںکی خوشامد قبول کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میںسنجے راؤت نے اتوار کو ذرائع ابلاغ سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’’ملک کا عدالتی نظام غیر جانبدار ہے یا نہیں ،اس کی اب فکر ہونے لگی ہے۔ کیونکہ اس ملک کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت جن کے سامنے گزشتہ تقریباً ۳؍برس سے اصل شیو سینا کس کی ؟اس کیس کی سماعت ہو رہی ہے اورچیف جسٹس تاریخ پہ تاریخ دے رہے ہیں۔ خود ہی اگلی تاریخ دیتے ہیں اور پھر سماعت ملتوی کرتے ہوئے اگلی تاریخ دے دیتے ہیں۔ اس رویہ کے سبب ایکناتھ شندے خیمے نے غیر آئینی ۴؍ الیکشن لڑا ہے۔ چیف جسٹس نے فیصلہ کی تاریخ ۲۱؍ جنوری طے کی تھی لیکن اس روز بھی سماعت نہیںکی اور اسے اگلے سماعت تک ملتوی کر دیا ۔یہی جسٹس سوریہ کانت گزشتہ روز ہوائی جہاز سے ممبئی آئے تھے۔
انہوںنے مزید کہا کہ ’’پروٹوکول کے مطابق ریاست کے چیف سیکریٹری،پروٹوکول سیکریٹری اور متعلقہ افسران کو چیف جسٹس کا استقبال کرنے کیلئے جانا چاہئے تھا لیکن ان کا استقبال کرنے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے گئے تھے، جو شیو سینا کی پٹیشن میں ایک پارٹی ہیں۔چیف جسٹس ایسے سیاستداں کی خیر مقدم کیسے قبول کر سکتے ہیں جن کی زیر سماعت گلدستہ دینے والے کی پٹیشن ہو؟ یہ غیر آئینی اور غیر ذمہ دارانہ فعل ہے۔اتنا ہی نہیں ہوٹل تاج میں جہاں جسٹس سوریہ کانت مقیم تھے،وہاں پر ایکناتھ شندے کافی دیر جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کرنے کیلئے کھڑے تھے۔
سنجے راؤت نے مزیدکہا کہ’’ جس شخص کے خلاف چیف جسٹس کے پاس پٹیشن زیر سماعت ہے ، اس سے اگر ملاقات کی جارہی ہے اور سیاسی دباؤ میں کام کیاجارہا ہے تو انصاف کی امید کس سے کی جائے گی؟ اس عمل سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ ہمیں انصاف کیوں نہیں مل رہا ہےاور تاریخ پہ تاریخ کیوں مل رہی ہے؟‘‘