اظہار رائے سے روکنے پر گاندھی جینتی کے موقع پر ناراضگی

Updated: October 03, 2020, 5:24 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مہاتما گاندھی کے مجسمے کے قریب جمع ہونے والوں پر پولیس کی سختی،۵؍لوگوں کو تحویل میں لیا اور پوسٹرز اور بینر کو بھی ضبط کرلیا۔

Hum Bharat Ke Log members are protesting outside the Mantralya. Photo: INN
ہم بھارت کے لوگ کے اراکین منترالیہ کے باہر۔ تصویر: آئی این این

گاندھی جینتی کے موقع پر ۲؍ اکتوبر کی صبح ’ہم بھارت کے لوگ‘ کی جانب سے منترالیہ کے سامنے گاندھی جی کے مجسمے کے پاس جمع ہونے کے لئے لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ گاندھی جی کو یاد کرنے کے ساتھ ملک کے موجودہ حالات پر گفتگو کی جائے لیکن‌ پولیس نے سخت رویہ اپنایا اور اظہار خیال کرنے اور مظاہرے کی اجازت نہیں دی۔اس کے علاوہ ۵؍مظاہرین کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا ۔ ان میں سے ۲؍کو ۱۴۹؍کا نوٹس دینے کے ساتھ پوسٹرز بینرز بھی جمع کرلئے، تفصیلات درج کرنے کے بعد انہیں چھوڑ دیا۔ پولیس کی جانب سے کووڈ۱۹؍ کے سبب دفعہ ۱۴۴؍کے نفاذ کا حوالہ دیا گیا ۔اس کے ساتھ ہی مالونی بس ڈپو کے سامنے سی پی آئی کے کارکنان نے احتجاج کیا ۔
یہ کیسی گاندھی جینتی
 گاندھی جی کے مجسمے کے پاس جمع ہونے والوں میں شامل یوسف مہر علی، یوا برادری آرگنائزیشن کی رکن اور سماجی خدمت گار گڈی نے کہا کہ پولیس کی سختی حیران کن اور افسوسناک ہے ۔میں پہلے تنہا کھڑی تھی اور بینر بھی میرے بیگ میں ‌تھا ۔ پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ یہاں پوسٹر بینر اور نعرے بازی کی اجازت نہیں ہوگی ، چنانچہ ہم خاموش تھے۔اس کے باوجود ہمیں اور۵؍ساتھیوں ‌کو مرین ڈرائیور پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا اور ہمارا بینر پوسٹر بھی چھین لیا اور یہ انتباہ دیا کہ ۱۸۸؍ے تحت تمہارے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
 انہوں نے یہ بھی کہا کہ شانتی کے دن ہم ملک کے حالات، کسانوں ، آدیواسیوں ‌، ہاتھرس کی بیٹی، غریب، مزدور اور بے روزگار نوجوانوں کی بات کرنا چاہ رہے تھے لیکن پولیس نے حددرجہ سختی برتی جو سمجھ سے پرے ہے ۔ہم‌ نے تو پولیس کے ساتھ تعاون کیا اس کے باوجود اجازت نہیں دی گئی جبکہ سماجی فاصلہ قائم رکھا گیا اور ہر ساتھی ماسک لگائے ہوئے تھا۔اس لئے یہ سوال قائم ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں کیا واقعی مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت ہے یا بی جے پی کی ۔
 مجسمے کے قریب موجود فیروز میٹھی بور والا نے کہا کہ این سی پی لیڈر ودیا تائی چوہان‌ کے رکن پارلیمنٹ سپریا سلے سے رابطہ قائم کرنے کے بعد پولیس نے بینر کے ساتھ چند تصاویر نکالنے کی اجازت تو دی لیکن ہم لوگ ملک کے حالات پر کوئی گفتگو نہ کرسکے ،یہ افسوسناک ہے ۔پولیس کا کہنا‌تھا کہ پھول پیش کرو اور آگے بڑھو۔انہوں ‌ نے یہ بھی کہا کہ گاندھی جینتی پر گاندھی جی کے مجسمے کے پاس بھی اگر امن وآشتی اور ملک کے حالات پر بات نہیں کی جائے گی تو کہاں اور ہوگی۔اس طرح کی گاندھی جینتی منانی پڑے گی، کبھی نہیں سوچا تھا۔یہاں کامریڈ سنجے سنگھوی، پرکاش ریڈی، جی جی پاریکھ، سلیم الوارے، فہد احمد، مدھورا، یوحان ٹینگرا، عنبر کوئری ، نشا کوئری، سربجیت، کامریڈ واسودیون، پنواس انگی اور دیگر لوگ موجود تھے ۔
منی بھون میں مہاتما گاندھی کو یاد کیا
 حسب معمول گاندھی جینتی کے موقع پر بزرگ گاندھیائی لیڈر جی جی پاریکھ پرکاش ریڈی وغیرہ منی بھون گاندھی جی کی رہائش گاہ پہنچے اور انہوں نے گاندھی جی کو یاد کیا۔
مالونی میں احتجاج
  گاندھی جینتی کی مناسبت سے مالونی میں کمیونسٹ پارٹی کے مقامی کارکنان اور عہدیداران نے احتجاج کیا اور بطور خاص کسانوں کا موضوع اٹھایا۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بل واپس لیا جائے اور کسانوں کی خودمختاری کسی قیمت پر ختم نہیں ہونے دی جائے گی۔ہم سب کسانوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں ۔ ہم کسان مخالف قانون واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK