دو ماہ میں چینی کی قیمتوں میں ملک بھر میں تقریباً ۴۰ ؍فیصد تک کا اضافہ ہوا،گنے کے ایتھنال میں زیادہ استعمال سے چینی کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ، بازار میں شکر کے داموں میں تیزی سے اضافے کے سبب ایتھنال پالیسی موضوع بحث۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 12:28 PM IST | Agency | New Delhi
دو ماہ میں چینی کی قیمتوں میں ملک بھر میں تقریباً ۴۰ ؍فیصد تک کا اضافہ ہوا،گنے کے ایتھنال میں زیادہ استعمال سے چینی کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ، بازار میں شکر کے داموں میں تیزی سے اضافے کے سبب ایتھنال پالیسی موضوع بحث۔
حکومت نے گھریلو بازار میں قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ۱۰ ؍لاکھ ٹن چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی ہے۔ بظاہر یہ مہنگائی سے فوری راحت دلانے والا قدم ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑا سوال بھی موجود ہے کہ کیا پٹرول میں ۲۰ ؍فیصد ایتھنول ملانے کی ای۲۰ ؍پالیسی نے چینی کی دستیابی کو متاثر کیا ہے؟ذرائع کے مطابق ۱۸ ؍اگست تک بھارت میں چینی کی اوسط خوردہ قیمت ۵۲ء۳۰؍ روپے فی کلو پہنچ گئی، جبکہ ایک سال پہلے یہ۴۶ء۳۴؍ روپے تھی۔ یعنی سالانہ بنیاد پر تقریباً ۱۳ فیصد اضافہ ہوا۔ چینی کی اوسط ایکس مل قیمت بھی ۵۴۰۰ ؍سے ۵۵۰۰ ؍روپے فی کوئنٹل تک پہنچ گئی، جو ایک سال پہلے تقریباً ۳۹۰۰ ؍روپے تھی۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں گھریلو چینی کی قیمتوں میں تقریباً ۴۰ ؍فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ کم پیداوار، ابتدائی اسٹاک میں کمی اور آئندہ سیزن میں گنے کی پیداوار سے متعلق خدشات نے سپلائی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ایک دہائی بعد بھارت دوبارہ چینی درآمد کرنے کی طرف بڑھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:۹؍ سم کارڈز رکھنے والوں کو نیا موبائل کنیکشن نہ دیا جائے: محکمہ ٹیلی کمیونیکیشنز
درآمد کے ساتھ حکومت کے اقدامات نے صرف نئی چینی درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ پورٹ پر شوگر ریفائنریوں کو بھی ایک اہم رعایت دی ہے۔ یہ ریفائنریاں عموماً خام چینی ڈیوٹی فری درآمد کرکے اسے ریفائن کرنے کے بعد برآمد کرتی ہیں۔ اب پہلے سے درآمد شدہ خام چینی سے تیار تقریباً ۳ ؍لاکھ ٹن چینی کو گھریلو بازار میں فروخت کیا جاسکے گا۔ البتہ برازیل جیسے ممالک سے نئی کھیپ بھارت پہنچنے میں تقریباً دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس لیے درآمد کا بڑا اثر اکتوبر کے آس پاس نظر آنے کی توقع ہے۔ شوگر ملوں اور ریفائنریوں کو ۲۱؍ سے ۲۸ ؍اگست کے درمیان درآمدی کوٹے کے لیے درخواست دینا ہوگی، جبکہ ۱۵ ؍اکتوبر تک درآمد مکمل کرنے کا وعدہ کرنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔حکومت نے بڑے خریداروں کے ذخیرے پر بھی پابندی لگائی ہے۔ ستمبر سے نومبر تک ۱۰ ؍ٹن سے زیادہ ماہانہ چینی استعمال کرنے والے تھوک صارفین ۱۵ ؍دن کی ضرورت سے زیادہ اسٹاک نہیں رکھ سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔ہندوستان نے پٹرول میں ۲۰ ؍فیصد ایتھنول ملانے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ایتھنول کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ ایتھنول بنانے میں گنے کا رس اور مختلف اقسام کے مولاسس استعمال ہوتے ہیں۔یہیں سے چینی اور ایتھنول کے درمیان بنیادی ربط سامنے آتا ہے۔ ایک ہی گنے سے چینی اور ایتھنول دونوں تیار کیے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا جب گنے یا اس سے حاصل ہونیوالے ایسے اجزا کو ایتھنول بنانے کیلئے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جن سے چینی بھی بن سکتی ہے تو چینی کی دستیابی پر اثر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔’رائٹرز‘ کے مطابق موجودہ سال میں تقریباً ۳۰ ؍لاکھ میٹرک ٹن چینی، یعنی کل پیداوار کا لگ بھگ ۱۰ ؍فیصد، ایتھنول کی طرف منتقل کیا گیا۔ حکومت آئندہ سیزن میں گنے کے رس اور بی ہیوی مولاسس سے ایتھنول بنانے پر پابندی یا حد مقرر کرنے کے امکان پر غور کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جھارکھنڈ کے کوڈرما میں طالبات کا شدید احتجاج
’’گنے سے ایتھنال بنایا جارہا ہے‘‘
عام آدمی پارٹی کےسربراہ اروندکجریوال نے الزام لگایا ہے کہ گنے سے اتھنال بنانے کی پالیسی نے چینی کی دستیابی کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں حکومت کو بیرون ملک سے چینی درآمد کرنا پڑ رہی ہے،ان کا کہنا ہے کہ ایتھنول کو فروغ دینے کا مقصد خام تیل کی درآمد پر زرمبادلہ بچانا تھا، لیکن اگر اس پالیسی کے نتیجے میں چینی کی قلت پیدا ہو اور بعد میں یہی چینی بیرون ملک سے خریدنی پڑے تو اسکے مجموعی معاشی فائدہ پر سوال اٹھتا ہے۔