جین الفا کی طالبات نے بلاک آفس کے سامنے دھرنادیا ،۸؍کلومیٹر پیدل مارچ کیا، اس دوران کئی طالبات کی حالت خراب ہوئی۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 11:35 AM IST | Agency | Koderma
جین الفا کی طالبات نے بلاک آفس کے سامنے دھرنادیا ،۸؍کلومیٹر پیدل مارچ کیا، اس دوران کئی طالبات کی حالت خراب ہوئی۔
جھارکھنڈ کے ضلع کوڈرما کے ست گاواں بلاک میں واقع کستوربا گاندھی گرلز ریزیڈنشیل اسکول کی طالبات کا غصہ ایک بار پھر سڑکوں پر نظر آیا۔طالبات نے۱۵؍ اگست کو اسکول میں پڑھائی میں مبینہ لاپرواہی اور اساتذہ کے رویے کے بارے میں شکایت کی تھی۔ طالبات کا کہنا تھا کہ ان کے امتحانات قریب ہیں، لیکن باقاعدگی سے پڑھائی نہیں کروائی جا رہی۔ وہیں پڑھائی کے بارے میں وارڈن سے سوال کرنے پر مبینہ طور پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ طالبات کے مطابق، یومِ آزادی کے دن اپنی مشکلات عوامی نمائندوں اور دیگر لوگوں کے سامنے رکھنے کے باوجود ۵؍دن گزر جانے کے بعد بھی شکایتوں پر کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر: ایف ڈی اے نے پریزیڈنسی ریڈیوکلب اور میکڈونلڈ کے لائسنس منسوخ کئے
کارروائی نہ ہونے سے ناراض طالبات نے جمعہ کے روز ست گاواں بلاک آفس پہنچ کر دھرنا شروع کر دیا اور اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کی۔ دھرنے کے دوران تیز دھوپ میں کئی طالبات کی طبیعت بگڑنے لگی۔ حالت خراب ہونے پر مقامی لوگوں اور پولیس کی مدد سے طالبات کو اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کا علاج کیا گیا۔ طالبات کا الزام ہے کہ جب وہ اپنے مسائل کو لے کر کے دھرنے پر بیٹھیں تو کافی دیر تک ذمہ دار حکام کی جانب سے ان کی بات سننے کے لئے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کی گئی۔ طالبات کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کرنے نہیں، بلکہ اپنی پڑھائی اور عزت کے ساتھ رہنے کا حق مانگ رہی ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ جب شکایت کرنے کے بعد بھی مسائل کا حل نہیں نکلے گا تو آخر وہ اپنی بات کس کے سامنے رکھیں؟کستوربا کی طالبات کے اس احتجاج نے سرکاری رہائشی اسکولوں میں تعلیمی نظام اور طالبات کے مسائل پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ طالبات نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ کسی فردِ واحد کے خلاف نہیں، بلکہ بہتر تعلیم، معزز رویے اور اپنی شکایتوں کے حل کیلئے ہے۔