Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں’ ای ون‘ آبادکاری منصوبے پر کام شروع

Updated: August 22, 2026, 1:05 PM IST | Agency | Baitul Muqaddas

اقوام متحدہ، اوآئی سی اور یورپ نےاس اقدام کی شدید مذمت کی، فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا: تعمیراتی کمپنیاں ای ون منصوبے کے ٹینڈرز میں حصہ نہ لیں۔

The E1 area is located between East Jerusalem and Israeli settlements. Picture: INN
ای ون کا علاقہ مشرقی بیت المقدس اور اسرائیلی آبادکاری کے درمیان واقع ہے۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل نے عالمی مخالفت کے باوجود مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے مشرق میں واقع ای ون علاقے میں بڑے آبادکاری منصوبے کو عملی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔میڈیا رپوٹس کے مطابق اسرائیلی وزارتِ تعمیرات و ہاؤسنگ نے ۱۲۳۴؍رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لئےٹینڈر جاری کیا ہے۔ یہ یونٹس ای ون میں مجموعی طور پر منصوبہ بند۳۴۰۱؍ گھروں کا حصہ ہیں۔ای ون کا علاقہ مشرقی بیت المقدس اور اسرائیلی آبادکاری کے درمیان واقع ہے۔

فلسطینی اور بین الاقوامی ناقدین کا کہنا ہے کہ یہاں بڑے پیمانے پر آبادکاری سے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان جغرافیائی رابطہ متاثر ہوگا جس سے ایک متصل فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے بھی تازہ پیش رفت پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اٹلی کے۱۲۳؍ سال پرانے ساحل کی پالیسی پر تنازع مگرسیاحوں کی تعداد میں اضافہ

فلسطینی وزارت خارجہ نے کمپنیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ای ون منصوبے کے تعمیراتی ٹینڈرز میں حصہ نہ لیں اور خبردار کیا ہے کہ اس منصوبے میں شمولیت بین الاقوامی قانون سے متعلق سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

دریں اثناء اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ نے مقبوضہ بیت المقدس میں نئے یہودی آبادکاری یونٹس کی تعمیر کیلئے ٹینڈر جاری کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔دوسری جانب یورپ اورکنیڈانے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستی کے نئے منصوبے کی مذمت کی ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، کنیڈا اور ناروے نے’ای ون‘ بستی کے منصوبے کے تحت ۱۲۰۰؍ سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کیلئے اسرائیل کی جانب سے ٹینڈرز جاری کرنے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔ ان کےمطابق یہ اقدام فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کی خلاف ورزی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK