Updated: February 01, 2026, 8:03 PM IST
| New Delhi
حکومت طبی سیاحت کو فروغ دینے اور ہندوستان کو طبی سیاحت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر قائم کرنے کے مقصد سے نجی شعبے کی شراکت سے پانچ علاقائی طبی مراکز قائم کرے گی۔وزیر خزانہ و کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے اتوار کے روز پارلیمنٹ میں مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے بجٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے۔
نرملا سیتارمن۔ تصویر:پی ٹی آئی
حکومت طبی سیاحت کو فروغ دینے اور ہندوستان کو طبی سیاحت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر قائم کرنے کے مقصد سے نجی شعبے کی شراکت سے پانچ علاقائی طبی مراکز قائم کرے گی۔وزیر خزانہ و کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے اتوار کے روز پارلیمنٹ میں مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے بجٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مراکز صحت کی دیکھ بھال کے مربوط کمپلیکس کے طور پر کام کریں گے جو مشترکہ طبی، تعلیمی اور تحقیقی سہولیات فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں میں آیوش مراکز، طبی سیاحت خدمات مراکز اور جانچ، علاج کے بعد دیکھ بھال اور بحالی کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ یہ مراکز ڈاکٹروں اور متعلقہ صحت پیشہ ور افراد سمیت صحت کے شعبے سے وابستہ مختلف پیشہ ور افراد کو مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، زرمبادلہ کمانے اور مقامی معیشت کو فروغ دینے کے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نیشنل کونسل فار ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیٹرنگ ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ایک قومی مہمان نوازی ادارہ قائم کرنے کی تجویز ہے۔ یہ ادارہ تعلیمی اور صنعتی اداروں اور حکومت کے درمیان ایک پل کے طور پر کام کرے گا۔
سیتارمن نے کہا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے تعاون سے ہائبرڈ موڈ میں ۱۲؍ ہفتوں کے معیاری اور اعلیٰ معیار کے تربیتی پروگرام کے ذریعے ۲۰؍ اہم سیاحتی مقامات پر ۱۰؍ ہزار گائیڈز کو ہنرمند بنانے کے لیے ایک پائلٹ اسکیم بھی تجویز کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ثقافتی، روحانی اور وراثتی اہمیت کے حامل تمام بڑے مقامات کی ڈجیٹل دستاویزات تیار کرنے کے مقصد سے نیشنل ڈیسٹینیشن ڈجیٹل نالج گرڈ قائم کیا جائے گا۔ یہ اقدام مقامی محققین، مورخین، کانٹینٹ تخلیق کاروں اور ٹیکنالوجی سے وابستہ فریقوں کے لیے روزگار پر مبنی ایک نیا ایکو سسٹم تشکیل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس عالمی معیار کے ٹریکنگ تجربات فراہم کرنے کی صلاحیتیں اور بے شمار مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک پائیدار ماحولیاتی نظام تیار کریں گے، جس میں ( ایک) ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر، مشرقی گھاٹ میں اراکو وادی اور مغربی گھاٹ میں پوڈھیگئی ملائی پہاڑوں پر چڑھائی، (۲) کیرالہ، کرناٹک اور ادیشہ کے۱۴؍ ساحلی علاقوں میں نمایاں سیاحتی مقامات کے ساتھ ٹرٹل ٹریل، اور (۳) تمل ناڈو اور آندھرا پردیش میں پلکٹ جھیل میں پرندوں کو دیکھنے کے مقامات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:`تعلیم سے روزگار اور صنعت کاری پر اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے گی: سیتارمن
سیتارمن نے کہا کہ اس سال ہندوستان عالمی بگ کیٹ سربراہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جہاں ۹۵؍ ممالک کے سربراہانِ حکومت اور وزراء مشترکہ حکمتِ عملی بنانے اور مستقبل کے منصوبوں پر غور کریں گے۔ انہوں نے وراثت اور ثقافتی سیاحت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دھولاویرا، راکھی گڑھی، ادیچنللور، سارناتھ، ہستناپور اور لیہ پیلس سمیت ۱۵؍ آثارِ قدیمہ کے مقامات کو زندہ اور تجرباتی ثقافتی مراکز کے طور پر ترقی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کھدائی شدہ مقامات کو خصوصی واک وی کے ذریعے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحفظاتی تجربہ گاہوں، تشریحی مراکز اور گائیڈز کی مدد کے لیے انہیں جدید کہانی سنانے کی مہارت اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:آئرلینڈ کی خواتین ٹیم کا بڑا معرکہ: ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کر لیا
شمال مشرق کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں ایک مربوط مشرقی ساحلی صنعتی راہداری کی ترقی کی تجویز پیش کرتی ہوں، جو اب درگاپور سے بہتر طور پر جڑ جائے گی۔ اس قدم کے تحت پانچ شمال مشرقی ریاستوں میں پانچ سیاحتی مقامات قائم کیے جائیں گے اور ۴۰۰۰؍ ای بسیں بھی چلائی جائیں گی۔ سیتارمن نے اروناچل پردیش، سکم، آسام، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں بدھ سرکٹ کی ترقی کے لیے ایک منصوبہ شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مندروں اور مٹھوں کے تحفظ، تیرتھ استھلوں پر دو لسانی مراکز کے قیام، رابطہ اور تیرتھ سے متعلق بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔