Updated: February 01, 2026, 9:02 PM IST
| New Delhi
ریلوے ٹرانسپورٹ شعبے کو فروغ دینے کے لیے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءمیں کل۲۹۳۰۳۰؍ کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کا انتظام کیا گیا ہے، جو ایک ریکارڈ ہے اور یہ ریلوے انفراسٹرکچر کے توسیع، حفاظتی نظام کو مضبوط کرنے اور ملک بھر میں ریلوے نیٹ ورک کی جدید کاری کو تیز کرنے پر حکومت کی مسلسل ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔
نرملا سیتارمن ۔تصویر:پی ٹی آئی
ریلوے ٹرانسپورٹ شعبے کو فروغ دینے کے لیے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءمیں کل۲۹۳۰۳۰؍ کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کا انتظام کیا گیا ہے، جو ایک ریکارڈ ہے اور یہ ریلوے انفراسٹرکچر کے توسیع، حفاظتی نظام کو مضبوط کرنے اور ملک بھر میں ریلوے نیٹ ورک کی جدید کاری کو تیز کرنے پر حکومت کی مسلسل ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق اس سال کے بجٹ میں ریلوے وزارت کے لیے کل مختص بڑھ کر۸۱ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے، جس میں سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے بجٹ سے ۲۷۷۸۳۰؍ کروڑ روپے کی امداد کا انتظام کیا گیا ہے۔ بجٹ میں ریلوے کے ریونیو اخراجات کے لیے۳۲ء۳۵۴۷؍ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ کاغذات کے مطابق ریلوے سال ۲۷۔۲۰۲۶ء میں داخلی اور بجٹ سے باہر کے ذرائع سے کل۱۵؍ہزار کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کرے گی۔ موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینے میں ریلوے کو بجٹ سے کل۵۵ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے ملے ہیں، جن میں سرمایہ جاتی امداد کا نظرثانی شدہ تخمینہ ۵۲ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے ہے۔
سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ریلوے کے سرمایہ جاتی اخراجات ۵۲ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ جاتی امداد سے نئی ریلوے لائنوں کی تعمیر، دوہری لائن، بجلی کاری، اسٹیشن کی ازسرنو ترقی، رولنگ اسٹاک کی خریداری اور بڑے حفاظتی اپ گریڈ جیسے کئی منصوبوں کو سہارا دیا گیا ہے۔ نظرثانی شدہ تخمینے میں موجودہ مالی سال میں ریلوے کا کل سرمایہ جاتی خرچ (ریلوے کے اپنے اور غیر بجٹی ذرائع سے) بڑھ کر ۷۸ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ ۲۷۔۲۰۲۶ءیش کرتے ہوئے انفراسٹرکچر منصوبے کا اعلان کیا، جس کے تحت بین شہری رابطے کو مضبوط کرنے اور اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لیے سات ہائی اسپیڈ ریلوے کوریڈور تیار کیے جائیں گے۔ ان میں ممبئی-پونے، پونے-حیدرآباد، حیدرآباد-بنگلور، حیدرآباد-چنئی، چنئی-بنگلور، دہلی-وارانسی اور وارانسی-سیلی گوڑی جیسے اہم راستے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:باکس آفس پر فلم ’’بارڈر۲‘ ‘ اور ’’مردانی ۳‘‘ میں زبردست مقابلہ آرائی
سیتا رمن نے کہا کہ مشرق میں دانکونی سے مغرب میں سورت تک نئے وقف شدہ مال بردار کوریڈور قائم کرنے اور اگلے پانچ برسوں میں ۲۰؍ نئے قومی آبی راستوں کو آپریشنل کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے آبی راستوں پر کام کا آغاز ادیشہ کے قومی آبی راستہ۵؍سے کیا جائے گا، جو تالچر اور انگول جیسے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں اور کلنگ نگر جیسے صنعتی مراکز کو پارادیپ اور دھامرا بندرگاہوں سے جوڑے گا۔
یہ بھی پڑھئے:سرمائی اولمپکس میں امریکی ادارے آئی سی ای کی شمولیت پر عوامی غم و غصہ
ان آبی راستوں کے لیے ضروری انسانی وسائل کی ترقی کے مقصد سے تربیتی اداروں کو علاقائی مرکزِ کے طور پر قائم کیا جائے گا۔ اس سے پورے آبی راستہ شعبے کے نوجوانوں کو تربیت اور ہنر حاصل کرنے کا فائدہ ملے گا۔ اس کے علاوہ داخلی آبی راستوں کے لیے جہاز مرمت کا ماحولیاتی نظام وارانسی اور پٹنہ میں قائم کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد سفر کے وقت کو کم کرنا، علاقائی انضمام کو فروغ دینا اور ہندوستان کے طویل مدتی لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر جدید کاری کے اہداف کو سہارا دینا ہے۔