ہندوستانی معیشت کی ترقی کے امکان کی ریٹنگ میں پھر کمی

Updated: September 22, 2022, 12:22 PM IST | Agency | New Delhi

ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے اپریل میں دی گئی اپنی ہی ریٹنگ کو کم کیا، ۲۳۔۲۰۲۲ء میں امکانات ۷ء۵؍ کے بجائے ۷؍ فیصد جبکہ ۲۴۔ ۲۰۲۲ء میں ۷ء۲؍ فیصد

According to the report, the global situation will also have an impact on the country`s economy.Picture:INN
رپورٹ کے مطابق ملک کی معیشت پر عالمی صورتحال کا اثر بھی پڑے گا ۔ تصویر:آئی این این

 مختلف ممالک کی معیشتوں سے متعلق ادارے ایشیائی ترقیاتی بینک  (اے ڈی بی) نے ہندوستانی معیشت کی ترقی کے تعلق سے گزشتہ اپریل میں دی گئی اپنی ہی ریٹنگ کو کم کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق  آئندہ ۲؍ مالی سال میں ملک کی ترقی کے  امکانات  میں ۰ء۵؍ فیصد کی کمی آئی ہے۔ بدھ کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں اے ڈی بی نے بتایا ہے کہ  عالمی سطح پر کمزور مانگ اور بڑھتے ہوئے افراط زر کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے  حکومت کی جانب سے  مالیاتی پالیسی کے تعلق سے سخت اقدامات کئے جائیں گے ۔ اس کی  وجہ سے بالترتیب رواں مالی سال اور اگلے مالی سال کیلئے ہندوستان کی ترقی سے متعلق پیش گوئی بالترتیب ۰ء۵؍ فیصد اور ۰ء۸؍ فیصد کم کر دی گئی ہے۔  یاد رہے کہ اے ڈی بی نے اسی سال اپریل میں کہا تھا کہ آئندہ دو سال کیلئے ہندوستان  میں معاشی ترقی کے امکانات کی شرح  ۷ء۵؍ فیصد اور ۸؍ فیصد ہوگی لیکن اب اس نے ان امکانات کو مزید کم کردیا ہے۔   اے ڈی  بی نےبدھ کو ہندوستان کیلئے جاری ہونے والی اپنی اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے رواں مالی سال کیلئے یعنی اپریل ۲۰۲۲ء سے مارچ ۲۰۲۳ء تک کیلئے  ہندوستان کی ترقی کی پیش گوئی  سے متعلق شرح کو ۷ء۵؍ فیصد سے کم کرکے ۷؍ فیصد کر دیا ہے۔ جبکہ آئندہ مالی سال یعنی اپریل ۲۰۲۳ء سے مارچ ۲۰۲۴ء تک  میں ترقی کے امکانات کی شرح کو ۸؍ فیصد سے کم کرکے ۷ء۲؍ فیصد کر دیا ہے۔  ہندوستان میں اے ڈی بی کے کنٹری ڈائریکٹر ٹی کونیشی نے کہا کہ ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) وبائی امراض سے پہلے کی سطح پر پہنچ رہی ہے، لیکن عالمی سست روی اور زیادہ افراط زر کی وجہ سے اس پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے توقع ہے کہ وہ کاروباری ریگولیٹری ماحول کو بہتر بنائے گی کیونکہ انفراسٹرکچر سے سرمایہ کاری میں تیزی  آئے گی اور اس سے ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا  اے ڈی بی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہندوستانی معیشت کورونا وائرس کے بعد واپس پٹری پر آ رہی ہے۔ لیکن عالمی سطح پر معاشی بحران کے سبب  پھر دقتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔  یہاں یہ بات یاد رہے کہ کورونا کے درمیان نہ صف ملک میں بلکہ عالمی سطح پر کاروبار پوری طرح بند تھے یعنی معیشت کو آگے لے جانے کیلئے کسی طرح کے اقدامات ممکن نہیں تھے۔ البتہ اب حالات جیسے بھی ہوں لیکن مارکیٹ کھلے ہوئے ہیں اور معاشی سرگرمیاں جاری ہیں اس لئے حالات کے  بدلنے کا بھی امکان موجود ہے۔   ایسا نہیں ہے کہ اے ڈی بی نے صرف ہندوستان کے تعلق سے ہی اپنے اندازے کو بدلا ہے بلکہ  اس نے چین کے تعلق سے بھی اپنے سابقہ اعداد وشمار میں تبدیلی کی ہے۔ چین کے تعلق سے اپریل میں اے ڈی بی نے کہا تھا کہ وہاں  ۲۰۲۲ء میں معاشی ترقی کے امکانات ۵؍ فیصد رہیں گے لیکن اب اس نے اس میںتبدیلی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چین میں یہ شرح گھٹ کر ۳ء۳؍ رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ  وہاں کورونا وائرس کا دوبارہ دستک دینا ہے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ مہینے سے چین میں کورونا وائرس نے دوبارہ سر ابھارا ہے اور بیجنگ نے کئی اہم شہروں میں لاک ڈائون لگا دیا ہے۔ اس کی وجہ سے کاروبار متاثر ہوا ہے اور معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ یوکرین جنگ  کے دوران عالمی سطح پر پائے جانے والے معاشی بحران کا اثر بلا شبہ چین پر بھی پڑے گا۔ اس لئے اس کی معیشت بھی لازمی طور پر کمزور ہوگی۔ فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا اے ڈی بی کے یہ اعداد وشمار اب آئندہ دوسال کے اختتام تک یعنی مارچ ۲۰۲۴ء تک قائم رہیں گے یا اس میں درمیان میں تبدیلی  آئے گی۔ کیونکہ  یوکرین جنگ کے خاتمے یا عالمی برادری کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کے داموں میں قابو پانے کیلئے اقدامات کی صورت میں دنیا کی مختلف معیشتیں  دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہیں۔ البتہ فی الحال ہندوستانی عوام کیلئے یہ خبر اچھی نہیں کہی جا سکتی کہ ان کی معاشی ترقی سست ہو رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK