معطل اراکین کی بحالی کیلئے ایک اور مارچ

Updated: December 22, 2021, 8:27 AM IST | new Delhi

اپوزیشن اراکین نےدوسری مرتبہ پارلیمنٹ سے وجے چوک کا مارچ کیا، معطلی واپس لینے اور اجے مشرا کو برطرف کرنے کا مطالبہ دہرایا

Rahul Gandhi addressing the media at Vijay Chowk, along with other opposition leaders can also be seen
راہل گاندھی وجے چوک پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ، ساتھ میں اپوزیشن کے دیگر لیڈران بھی دیکھے جاسکتے ہیں

کانگریس، ڈی ایم کے، شیوسینا، سماج وادی پارٹی  اور ٹی ایم سی سمیت بڑی اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے  منگل کو ایک مرتبہ پھر راجیہ سبھا سے معطل شدہ اراکین کی معطلی واپس لینے کے مطالبہ پر پارلیمنٹ ہائوس سے وجے چوک تک مارچ کیا۔ اس دوران اجے مشرا کی برخاستگی کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔اس مارچ کی قیادت ایک مرتبہ پھر راہل گاندھی نے کی ۔ انہوں نے اس موقع پر مودی سرکار کو سخت سست کہا۔ لکھیم پور کھیری کیس میں وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کی برطرفی اور راجیہ سبھا کے اراکین کی معطلی کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر پارلیمنٹ ہاؤس سے وجے چوک تک  مارچ میں راہل گاندھی کے علاوہ سنجے رائوت ، ملکا رجن کھڑگے  اور وہ اراکین شامل تھے جنہیں راجیہ سبھا سے معطل کیا گیا ہے ۔ اپوزیشن کے اراکین  پارلیمنٹ ہائوس میں واقع بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمہ سے وجے چوک تک مارچ  کیا ۔  یاد رہے کہ ان جماعتوں کے لیڈروں نے گزشتہ ہفتے بھی پارلیمنٹ ہاؤس سے وجے چوک تک مارچ  نکالا تھا۔ معطل اراکین سرمائی اجلاس کے آغاز میں معطل  کئے جانے کے بعد سے ہی  پارلیمنٹ ہاؤس میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے دھرنا دے رہے ہیں۔
 اپوزیشن کے مارچ کی قیادت کرنے والے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نےکہا کہ ہمارا مطالبہ واضح ہے، وزیر اعظم کو اپنے چہیتے وزیر مملکت برائے داخلہ کو عہدے سے برطرف کرنا ہی ہوگا۔ اس کے بغیر نہ انصاف کا تقاضہ پورا ہو گا اور نہ  متاثرین کے درد کا مداوا ہو گا ۔   کانگریس کے سابق صدر کے مطابق لکھیم پور کھیری معاملے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ’ٹینی‘ کے بیٹے کی جیپ سے کسانوں کو کچلا گیا ہے، اس لئے حکومت کو اس بارے میں ملک کے عوام کو جواب دینا ہوگا اور مرکزی وزیر کو ہٹانا پڑے گا۔ راہل گاندھی نے وجے چوک پر نامہ نگاروں سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں لکھیم پور کھیری معاملے کو بار بار اٹھا رہی ہیں۔ حقائق کی بنیاد پر واضح ہے کہ وزیر کے بیٹے نے کسانوں کو مارا ہے اور وزیر کی جیپ کے نیچے انہیں کچلا گیا ہے۔ اس بارے میں تفتیشی ٹیم کی رپورٹ بھی آگئی ہے اور اس سے سب کچھ واضح ہو رہا ہے کہ ایک سازش کے تحت کسانوں کو جیپ سے کچلنے کا کام کیا گیا  ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی اپنا کام صحیح طریقہ سے نہیں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ میڈیا  اس اہم ترین معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے جبکہ اسے ایسے معاملات میں حکومت سے سوال کرتے رہنا چاہئے ۔ راہل کے مطابق آج نہ میڈیا اپنا کام کر رہا  ہے اور نہ حکومت اپنا کام کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے ایک وزیر کے بیٹے نے کسانوں کو جیپ کے نیچے کچلنے کا کام کیا ہے۔ وزیراعظم ایک طرف تو کسانوں سے معافی مانگتے ہیں اور دوسری طرف ’قاتل‘ وزیر کو اپنی کابینہ میں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ملک کے عوام اور کسانوں کے ساتھ بھدا مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK