انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد جس جگہ پر تعمیر تھی، وہ جگہ سرکاری ریکارڈ میں تالاب اورقبرستان کے طور پر درج ہے
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 11:14 PM IST | Lucknow
انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد جس جگہ پر تعمیر تھی، وہ جگہ سرکاری ریکارڈ میں تالاب اورقبرستان کے طور پر درج ہے
اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کی تحصیل لہَرپور میں ضلع انتظامیہ نےمسجد سید حضرت عمر فاروق کوبلڈوزرکے ذریعہ منہدم کردیا۔ انتظامیہ کے مطابق مسجدتالاب اور قبرستان کی زمین پر۱۲؍سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔ انہدامی کارروائی کیلئے۸؍ جے سی بی مشینیں استعمال کی گئیں اور بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں پیر کی صبح تقریباً ۵؍ بجے انہدامی عمل شروع کیا گیا۔ انتظامیہ کی اس کارروائی سے عوام میں سخت غم و غصہ کا ماحول پایا جارہا ہے۔
اطلاع کے مطابق لہَرپور کے جوشی تال چنگی روڈ کے قریب ’نیا گاؤں بہیٹی ‘ میںواقع سید حضرت عمر فاروق مسجد گرام سماج کی زمین (گاٹا نمبر۲۴۷؍) پر بنائی گئی تھی، جس کے خلاف مقدمہ تحصیلدار عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔اس تعلق سے انتظامیہ نے ایک نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ بعد ازاں تحصیل انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے مسجد کو شہیدکر دیا۔
حکام کے مطابق مسجدکو ہٹانے کیلئے کئی بار نوٹس جاری کئے گئے تھے تاہم، متعلقہ فریق کی جانب سے کوئی پہل نہ ہونے پر ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر راجا گنپتی آر نے سخت قدم اٹھانے کی ہدایت دی۔ اس سے قبل، اتر پردیش ریونیو کوڈ کی دفعہ ۶۷؍ کے تحت بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔کارروائی کے دوران علاقے کو مکمل طور پر پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا تھا تاکہ کسی طرح کی کوئی مزاحمت نہ ہو اورکوئی احتجاج وغیرہ کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔ پی اے سی اور مختلف تھانوں کی پولیس موقع پر تعینات رہی۔
خیال رہے کہ شہر کی ترقی اور خوبصورتی کے منصوبے کے تحت کیپٹن منوج پانڈے چوراہے کے ارد گرد تجاوزات ہٹانے کا کام گزشتہ کچھ دنوں سے جاری ہے۔ اسی سلسلے میںگزشتہ دنوں تقریباً ۲۵؍ سال پرانا ایک چھوٹا مندر بھی گرا دیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چوراہوں کی توسیع اور خوبصورتی کیلئے ایسے تمام ڈھانچے ہٹائے جا رہے ہیں جو رکاوٹ بن رہے ہیں۔ مندر کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ مقامی لوگوں اور پجاری کی رضامندی کے بعد اسے ہٹایا گیا اور مورتیوں کو جلد نئی جگہ پر نصب کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، مندر کو گرانے کے دوران کچھ افراد نے مخالفت کی تھی، تاہم حکام نے صورتحال کو قابو میں رکھا۔ اس کارروائی پر بعض ہندو تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جبکہ انتظامیہ نے متبادل جگہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس کے برعکس مسجد کیلئے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس تعلق سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جس زمین پر مسجد تعمیر کی گئی تھی، وہ سرکاری ریکارڈ میں تالاب اورقبرستان کے طور پر درج تھی۔ اس معاملے پر پہلے تحصیلدار اور بعد ازاں ضلع مجسٹریٹ کی عدالت سے بے دخلی کے احکامات جاری کئے گئےتھے، جن پر عمل کرتے ہوئے تجاوزات ہٹانے کی کارروائی انجام دی گئی۔
خیال رہے کہ اترپردیش میں یوگی حکومت کے قیام کے بعد گزشتہ ۹؍ برسوں میں کچھ مسجدوں اور درگاہوں کو غیر قانونی قرار دے کر تو کچھ کو ترقیاتی منصوبوں میں حائل بتا کر اب تک کئی مسجدوں اور درگاہوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔