• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی کے ذریعے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کی پانچ کوششوں کو بے اثر کیا: اینتھروپک

Updated: September 11, 2026, 6:04 PM IST | New York

اینتھروپک نے ایک بیان میںکہا کہ اس نےحیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کی پانچ کوششوں کو بے اثر کیا، جو اس کے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کے ذریعے کی جارہی تھی، رپورٹ کے مطابق یہ معاملات چکن گونیا، ایویئن انفلوئنزا اور چیچک سے متعلق تحقیق سے جڑے تھے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اینتھروپک نے جمعرات کو کہا کہ اس نے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی پانچ کوششیں روکیں جو ممکنہ طور پر حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں معاون ہو سکتی تھیں۔ اپنے اے آئی نظاموں کے غلط استعمال پر ایک رپورٹ میں کمپنی نے کہا کہ جانچ مفید ہے کیونکہ یہ صلاحیت کا ثبوت دیتی ہے، لیکن یہ ثابت نہیں کر سکتی کہ ایسی صلاحیت حقیقی دنیا میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق یہ کیسز چکن گونیا، ایویئن انفلوئنزا اور چیچک سے متعلق تحقیق سے جڑے تھے۔ ایک کیس میں ایک نامعلوم فوجی ادارے سے وابستہ محقق نے چکن گونیا، جو مچھروں سے پھیلنے والا وائرس ہے، پر تحقیقی تجویز تیار کرتے ہوئے اینتھروپک کے کلاؤڈ چیٹ بوٹ کا استعمال کیا۔ اگرچہ اس تحقیق کے جائز مقاصد، بشمول ویکسین کی تیاری، ہو سکتے تھے، محقق نے ایسی مدد بھی مانگی جس نے وائرس کی زیادہ خطرناک اقسام بنانے پر خدشات پیدا کیے۔  

یہ بھی پڑھئے: OpenAI کے نیویئر اسٹوکس مسئلہ کے حل میں ہندوستانی سائنسدانوں کا حوالہ شامل

جبکہ دیگر معاملے میں ایویئن انفلوئنزا کی منتقلی بڑھانے اور ایسے حیوانی زہروں کی معلومات حاصل کرنے کی کوششیں شامل تھیں جو ممکنہ طور پر ہتھیاروں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی پایا کہ کچھ صارفین دھوکہ دہی والے اکاؤنٹس، نجی نیٹ ورکس اور تیسرے فریق کے ری سیلرز کے ذریعے حفاظتی اقدامات کو بائی پاس کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حیاتیاتی تحقیق کے علاوہ، رپورٹ میں اے آئی کے دیگر ممکنہ طور پر نقصان دہ استعمالات کی نشاندہی کی گئی، جن میں روایتی ہتھیار اور سائبر حملے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تیونس میں قائم ایرانی سفارتخانے نے ’ایکس‘ پر اکشے کمار کے مشہور مِیم کے ذریعے مذاق اڑایا

علاوہ ازیں رپورٹ کے مطابق ایک معاملہ یمن سے موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعے گائیڈڈ راکٹ بنانے سے متعلق استفسار پر مشتمل تھا۔ اینتھروپک نے خبردار کیا کہ ممکنہ طور پر خطرناک صلاحیتوں کی نشاندہی اس بات کا ثبوت نہیں کہ صارفین کا ارادہ حیاتیاتی ہتھیار بنانا تھا یا وہ کامیاب ہوتے۔ یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بڑھتی ہوئی طاقت والے اے آئی نظاموں کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ وہ ایسی نقصان دہ سرگرمیوں کو آسان بنا سکتے ہیں جن کے لیے پہلے خصوصی مہارت درکار تھی۔ اینتھروپک نے حیاتیات اور سائبر سیکیورٹی جیسے حساس شعبوں کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات متعارف کرائے ہیں، جبکہ اس کے کچھ انتہائی قابل حیاتیات پر مرکوز ماڈلز تک رسائی صرف تصدیق شدہ اداروں تک محدود ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK