• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عمر خالد اور شرجیل امام کے حق میں نعرے لگانے والے ٹِس طالب علم کوعدالت سے ضمانت

Updated: September 11, 2026, 6:08 PM IST | Mumbai

ممبئی کی ایک عدالت نےٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز (TISS) کے طالب علم ابھیروپ اشم پال کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ محض ماؤ نظریات پر مبنی کتابیں رکھنے یا کیمپس میں زیرِ حراست طلبہ لیڈروں کے حق میں نعرے لگانے سے کسی کو ملک دشمن یا ماؤسٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے ممنوعہ تنظیم یا ملک دشمن سرگرمیوں سے تعلق کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ممبئی کی ایک عدالت نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز (TISS) کے طالب علم ابھیروپ اشم پال کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، جنہیں جیل میں بند طلبہ لیڈر عمر خالد اور شرجیل امام کے حق میں نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت کرتےہوئے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ دتاتریہ شنکر راؤ کھڈیکر نے اپنے مشاہدے کی بنیادپرکہا کہ کسی کے پاس ماؤکے نظریات پر مبنی پی ڈی ایف کتابیں ملنا یا کیمپس میں قید طلبہ لیڈروں کی حمایت میں نعرے لگانا ملک دشمن سرگرمی کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی اس سے ماؤ وسٹ ہونے کا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میراروڈ: بی جے پی رکن اسمبلی کے اسکول میں لنچ باکس میں آلو، پیاز، لہسن لانے پر پابندی

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ محض شک کے علاوہ ایسا کوئی ثبوت یا مواد ریکارڈ پر موجود نہیں ہے جو ملزم کے کسی ممنوعہ تنظیم یا ملک دشمن سرگرمیوں سے تعلق کو ظاہر کرے۔ جج نے نوٹ کیا کہ اشم پال پہلے ہی ایک طویل عرصے تک پولیس تحویل میں رہ چکے ہیں اور صرف شک کی بنیاد پر ایک نوجوان طالب علم کو جیل میں رکھنا ناانصافی ہوگی، جس سے اس کا کریئر تباہ ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ ٹِس کے رجسٹرار کی شکایت پر درج کی گئی ایک ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۲۵؍ کو کیمپس میں آنجہانی پروفیسر جی این سائی بابا کی یاد میں ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق طلباء نےاس تقریب میں یو اے پی اے کے تحت قید عمر خالد اور شرجیل امام کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی تھی۔ سیشن کورٹ سے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد پولیس نے ۷؍ اگست کواشم پال کو گرفتار کر لیا تھا-

یہ بھی پڑھئے: ایپ ٹیکسیوں کے ڈرائیوروں کے ڈومیسائل اور مراٹھی کے دستاویز طلب

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ طالب علم کا یہ اقدام ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ اور سماج میں نفرت پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے، لیکن مجسٹریٹ نے ان تمام باتوں کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اشم پال کا ٹِس کی پروگریسو اسٹوڈنٹس فورم کا رکن ہونا اور کسی یادگاری تقریب میں شامل ہو کر نعرے لگانا اسے کسی جرم کا ذمہ دار نہیں بناسکتا اور نہ ہی تحقیقات میں ایسا کچھ ملا ہے کہ اس نے سوشل میڈیا کا استعمال کر کے کسی ممنوعہ نیٹ ورک کو فائدہ پہنچایا ہو۔ بامبےہائی کورٹ کی جانب سے اسی کیس کے ایک دیگر ملزم کمکھیا داس کو گرفتاری سےراحت دی گئی تھی، اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے ابھیروپ پال کو ایک لاکھ روپے کےبانڈ اور نقد سیکوریٹی پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK