سویڈن اور ناروے میں اسلام مخالف ریلی اور جھڑپیں

Updated: August 31, 2020, 12:19 PM IST | Agency | Stockholm

جنوبی سویڈن میں  ایک مسلم مخالف ڈینش لیڈر کو اسلام مخالف ریلی میں شرکت کی اجازت نہ دینے پر مظاہرین کے تعدد کے بعد پولیس نے ۱۰؍ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ جنوبی سویڈن میں  ایک مسلم مخالف  ڈینش لیڈر کو اسلام مخالف ریلی میں شرکت کی اجازت نہ دینے پر مظاہرین کے تعدد کے بعد پولیس نے ۱۰؍ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ  پروگرام میں  قرآن کریم کا نسخہ نذرآتش کرنے کی مذموم تیار ی کی گئی تھی۔

Sweden Norway Protest
سویڈن میں بڑےپیمانے پر تشدد ہوا۔

جنوبی سویڈن میں  ایک مسلم مخالف  ڈینش لیڈر کو اسلام مخالف ریلی میں شرکت کی اجازت نہ دینے پر مظاہرین کے تعدد کے بعد پولیس نے ۱۰؍ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ  پروگرام میں  قرآن کریم کا نسخہ نذرآتش کرنے کی مذموم تیار ی کی گئی تھی۔ پولیس کے روکنے کے بعد بھی  دائیں بازو کے شدت پسند باز نہیں آئے اور انہوں  نے  طے شدہ مقام کے بجائے  دوسرے مقام پر  قرآن کریم کے  ایک نسخے کو آگ کے حوالے کیا۔ اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے  مطابق ڈینش شدت پسند لیڈر کو پروگرام میں  شرکت نہ کرنے دینے کی وجہ سے برہم ہجوم نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور سڑکوں  پر ٹائر جلاکر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف  مسلمانوں نے بھی احتجاج کیا اورا س دوران بھی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ سویڈن کے بعد انتہا پسندوں  نے ناروے میں بھی قرآن کریم  کی بے حرمتی کرتے ہوئے اس کے اوراق کو پھاڑنے کی جرأت کی۔  

 سنیچرکو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں اس وقت صورت حال کشید ہ ہوگئی، جب اسلام مخالف مظاہرین نے    قرآن کریم  کے اوراق پھاڑدیئے۔ پولیس نے فریقین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ ۳۰؍ افراد کو گرفتار بھی کر لیاگیا ہے۔اسلام مخالف اس ریلی کا انعقاد’’اسٹاپ اسلامائزیشن آف ناروے‘‘ نامی شدت پسند گروپ نے ملکی پارلیمانی عمارت کے قریب کیا تھا۔
  جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس مظاہرے کے خلاف ایسے سیکڑوں افراد بھی وہاں جمع ہوئے، جنہوں نے ’’ہماری گلیوں میں نسل پرستوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ‘‘ جیسے نعرے بلند کیے۔نیوز ایجنسی این ٹی بی کے مطابق صورت حال اُس وقت کشیدہ ہو گئی، جب ایک اسلام مخالف خاتون نے قرآن کے اوراق پھاڑ ڈالے۔ اس خاتون کو پہلے بھی نفرت انگیز تقاریر کرنے پر جرمانہ کیا جا چکا ہے۔ اس خاتون نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے اشتعال دلایا کہ’’دیکھو اب میں تمہارے قرآن کی بے حرمتی کروں گی۔‘‘اس کے بعد صورتحال خراب ہوگئی اور  وہاں موجود افراد نے اسلام مخالفین پر انڈے برسائے اور بعض نے پولیس رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اس خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی۔ پولیس نے صورتحال کو بے قابو ہوتے دیکھ کر پیپر اسپرے کا  استعمال کیا اور اسلام مخالف ریلی وقت سے پہلی ہی ختم کر دی گئی۔
  ناروے میں   یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب جمعہ کو سویڈن کے شہر مالمو میں دائیں بازو کے انتہاپسندوں نے قرآن کے ایک نسخے کو نذر آتش کرکے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی نفرت انگیز حرکت کی۔ اس کے بعد وہاں بھی پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ مالمو پولیس نے مذہبی نفرت پھيلانے کے الزام میں۳؍ افراد کو حراست ميں لے ليا تھا جبکہ ايک اسلام مخالف ڈينش سياستدان کو بھی گرفتار کر کے واپس بھيج ديا گيا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK