انتونیو غطریس کی آذر بائیجان اور آرمینیا سے جنگ بندی کی اپیل

Updated: September 29, 2020, 11:50 AM IST | Agency | Geneva

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے آرمینیا اور آذربائیجان سے نگورنو قاراباخ خطے میں فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد ہی دونوں ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ کر کے اس معاملہ پر بات چیت کریں گے

Azerbaijan Army - PIC : Agency
آذر بائیجان کے فوجی دشمن پر حملے کی تیاری کرتے ہوئے (تصویر: ایجنسی

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے آرمینیا اور آذربائیجان سے نگورنو قاراباخ خطے میں فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد ہی دونوں ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ کر کے اس معاملہ پر بات چیت کریں گے۔غطریس نے اتوار کو یہ بیان جاری کیا۔بیان کے مطابق ’’اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے نگورنو قاراباخ خطے میں تناؤ کو کم کرنے کیلئے فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد اور بامقصد بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ جلد ہی اس معاملہ پر آذربائیجان کے صدر اور آرمینیا کے وزیر اعظم سے بات کریں گے۔ ‘‘
 اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ انہیں نگورنو قاراباخ خطہ میں آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین شروع ہونے والے فوجی تنازع پر سخت تشویش ہے اور وہ  فوجی طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس تنازع میں عام شہریوں کی ہلاکت پر بھی غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔یہ بھی اس سے قبل نگورنو قاراباخ خطہ کے ایک علاقے پر قبضہ کے حوالہ سے آرمینیا اور آذربائیجان کی فوج کے مابین جھڑپ شروع ہوئی تھی۔ آرمینیا کی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کیا  ہےجس میں کہا گیا ہے کہ نگورنو قاراباخ خطے میں آذربائیجان کی فوج کے ساتھ جھڑپ میں اس کے مزید ۲۸؍ فوجی  ہلاک ہوئے ہیں اس طرح مہلوکین کی تعداد ۵۹؍ ہو گئی ہے۔ 
ترکی کا آذر بائیجان کی حمایت کا اعلان
   ادھر ترک صدر رجب طیب اردگان نے آرمینیا کے ساتھ جاری کشیدی میں آذر بائیجان کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ایک نیوز ایجنسی کے مطابق ترک صدر نے دونوں ممالک کی کشیدگی میں آذر بائیجان کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو سفاکی اور جارحیت کا نشانہ بننے والے آذار بائیجان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ترک نیوز ایجنسی  کے مطابق صدر اردگان نے باکو میں آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف سے فون پر بات کرتے ہوئے انہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے مابین بھی رابطے ہوئے جس میں ترک وزیر دفاع نے آذر بائیجان کی سالمیت کے تحفظ کیلئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
  روس کے آرمینیا میں سفیر  نے الزام لگایا ہے کہ ترکی نے آذر بائیجان کی مدد کیلئے ۴؍ ہزار جنگجوئوں کو بھیجا ہے۔ یہ جنگجو شام میں تعینات تھے وہاں سے انہیں آذر بائیجان بھیجا گیا ہے۔ لیکن آذر بائیجان کے صدر  الہام علیف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ روس میں آرمینیاکے سفیر کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد الہام علیف نے بیان جاری کیا ۔ 
 ایران کی ثالثی کی پیش کش
 دوسری جانب ایران نے دونوں ممالک کے مابین امن مذاکرات کیلئے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔  ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایک پریس کانفرنس کےدوران کہا کہ ایران کی پالیسی اب بھی  آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان ٹالنے  اور مسئلے کو باہمی گفتگو سے حل کروانے کی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ’’ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ جنگ فوری طور بند ہونی چاہئے اور ہر مسئلے کا حل گفتگو ہی سے نکالا جا سکتا ہے۔‘‘  کہا جا رہا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اتوار کی رات اس تعلق سے آذر بائیجان  اور آرمینیاکے اپنے ہم منصبوں سے گفتگو بھی کی ہے۔ 
  واضح رہے کہ آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان مسلح جھڑپيں متنازع علاقے نگورنو کاراباخ  ميں ہو رہی ہيں جو کہ آزاد جمہوری ملک ہے اور باضابطہ طور پر آذربائیجان کا علاقہ ہے تاہم آرمینیا اور دیگر عالمی قوتیں اسے تسلیم نہیں کرتیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کی جھڑپوں میں مجموعی طور پردرجنوں ہلاکتیں  ہوچکی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK