طالبان کی غلطیوں کیلئےافغان عوام کو سزانہ دیں: انتونیو غطریس

Updated: January 24, 2022, 11:18 AM IST | Agency | New York

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نےافغانستان کےمنجمد اثاثوں کے اجراکی اپیل دہرائی، عوام کی زبوں حالی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی مددکا مطالبہ کیا

UN Secretary General Antonio Guterres expresses concern for the Afghan people.Picture:INN
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس افغانستانی عوام کیلئے فکرمندی کا اظہار کررہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

 اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے افغانستان کے منجمد فنڈز کے مشروط اجرا کی اپنی اپیل دہراتے ہوئے افغان بحران کے حل کے لیے اپنی ’دور اندیش سفارت کاری‘ جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔خبروں کے مطابق اگست۲۰۲۱ء میں طالبان کے کابل پر قبضے کے فوراً بعد امریکہ نے نیویارک فیڈرل ریزرو میں تقریباً۷؍ارب ڈالر کے افغان اثاثے منجمد کر دیے۔اس وقت سے امریکہ اور یورپ دونوں میں تنظیمیں اور افراد واشنگٹن پر فنڈز کو غیر منجمد کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔  چند روز قبل بھی امریکی ایوان نمائندگان نے افغانستان کے عوام کو درپیش معاشی اور انسانی آفات سے نمٹنے کے لیے انسانی بنیادوں پر فنڈز جاری کرنے کی سفارش کی۔گزشتہ ماہ ۴۰؍  امریکی قانون سازوں نے سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن اور سیکریٹری خزانہ جینٹ یلین پر زور دیا تھا کہ وہ افغانستان میں معاشی تباہی کو روکنے کے لیے انسانی امداد جاری کریں۔ تاہم سب سے مضبوط اپیل اقوام متحدہ کے سربراہ کی جانب سے آئی جنہوں نے خبردار کیا کہ `افغانستان میں ایک ڈراؤنا خواب نظر آرہا ہے’’ اور دنیا `افغان عوام کی مدد کے لیے وقت کے خلاف دوڑ میں ہے۔‘‘انتونیو غطریس نے کہا کہ ’’بچے اپنے بہن بھائیوں کو کھانا کھلانے کیلئے بیچے جا رہے ہیں، صحت کی منجمد سہولیات غذائی قلت کے شکار بچوں سے بھر چکی ہیں، لوگ گرم رہنے کے لیے اپنا سامان جلا رہے ہیں اور ملک بھر میں ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہے۔  نیویارک میں نیوز بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو یاد دلایا کہ افغانستان میں حالات مزید بگڑ چکے ہیں اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ ’’فون اٹھانے اور طالبان سے بات کرنے‘‘کے لیے تیار ہیں تا کہ ان سے ملک کا معاشی محاصرہ ختم کرنے کے لیے درکار اصلاحات کرائی جائیں۔جس پر سیکریٹری جنرل نے کہا کہ سب سے پہلے یہ واضح ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سنگین صورتحال ہے اور (ناکہ بندی ختم کرنے کی شرائط) ابھی تک پوری نہیں ہوئیں۔تاہم انتونیو غطریس نے طالبان کی ناکامی کو انسانی بحران سے نہ جوڑنے کی اپنی اپیل دہرائی۔انہوں نے کہا کہ ’’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور افغانستان میں معاشی تباہی سےبچنے کی ضرورت ایک ایسی چیز ہے جس کے لیے ہم لڑ رہے ہیں، کیونکہ افغانستان کے لوگ انتہائی مایوس کن صورتحال میں ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’افغانستان کے لوگوں کو صرف اس وجہ سے اجتماعی سزا دینا ایک غلطی ہوگی کہ موجودہ حکمران ٹھیک طریقے سے برتاؤ نہیں کر رہے۔‘‘  دونوں چیزوں کو الگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم انسانی بنیادوں پر اپنی کارروائی جاری رکھیں گے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ہم لیکویڈیٹی کی ضرورت پر اصرار کرتے رہیں گے تا کہ معیشت تباہ نہ ہو اور لوگوں کو بالکل مایوس کن صورتحال میں نہ رہیں۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیکن اقوام متحدہ بھی `طالبان کے ساتھ انسانی حقوق کے علاوہ دہشت گردی کے سوال اور جامع طرز حکمرانی کے سوال  پر اصرار کرتی رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK