Inquilab Logo Happiest Places to Work

غطریس کا ٹرمپ کے غزہ تعمیر نو منصوبے کا خیرمقدم، قانون پر زور

Updated: March 22, 2026, 3:08 PM IST | New York

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو غطریس نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے امریکی اقدام کی حمایت کی مگر بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو لازمی قرار دیا۔

Donald Trump showing a file after signing the Peace Board. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ بورڈ آف پیس پر دستخط کرنے کے بعد فائل دکھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے سنیچر کو ایک انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ اقدام کا خیرمقدم کیا، جو غزہ کی تباہ حال پٹی میں تعمیر نو کے لیے مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں معاونت فراہم کرنے کے مقصد سے سامنے آیا ہے۔ غطریس نے کہا کہ سلامتی کونسل پہلے ہی غزہ کی بحالی کو ایک اہم مقصد قرار دے چکی ہے اور اقوام متحدہ اس نئے فریم ورک کے ساتھ ’’فعال تعاون‘‘ کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا بنیادی فوکس غزہ کی تعمیر نو ہونا چاہیے، کیونکہ ان کے مطابق یہی فوری ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس طرح کے کسی بھی منصوبے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی اقدار کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ غطریس کے الفاظ میں، ’’ہمیں اصولوں پر واضح ہونا ہوگا، کیونکہ یہی کسی بھی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔‘‘
حالیہ مہینوں میں غزہ شدید تباہی کا شکار رہا ہے، جہاں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے مطابق بنیادی ڈھانچہ، رہائشی عمارتیں اور صحت کا نظام بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے۔ تازہ اندازوں کے مطابق لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔ اسی تناظر میں ’’بورڈ آف پیس‘‘ جیسے اقدامات کو عالمی سطح پر ایک ممکنہ فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ اس کے ڈھانچے اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر ابھی بھی سوالات موجود ہیں۔ غطریس نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو سے آگے اس بورڈ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی ضرورت نہیں دیکھتے اور خبردار کیا کہ پیچیدہ جغرافیائی سیاسی مسائل کو اس طرح کے محدود فریم ورک کے ذریعے حل کرنا مؤثر نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، اقوام متحدہ کی یہ پوزیشن اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی ادارہ کسی بھی یکطرفہ سیاسی یا سیکوریٹی ایجنڈے سے ہٹ کر ایک متوازن اور قانونی بنیاد پر حل چاہتا ہے۔
انٹرویو کے دوران غطریس نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ایک اور اہم پہلو یعنی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش ختم کرے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اقوام متحدہ اس علاقے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری سلامتی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی چین کے مسائل اور انسانی بحرانوں نے عالمی برادری کو فوری اور مربوط اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔
غطریس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ان کی صدر ٹرمپ سے براہ راست بات نہیں ہوئی، تاہم وہ امریکی انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ سفارتی رابطے مستقبل میں کسی بڑے امن معاہدے یا تعمیر نو کے عالمی فریم ورک کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس اقدام کی حمایت کو ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم عالمی سطح پر اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو اور خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف مالی مدد کافی نہیں بلکہ ایک جامع سیاسی حل بھی ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK