• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مزدور مخالف قوانین رد کرانے کےلئےآج کی ملک گیر ہڑتا ل میں شامل ہونے کی اپیل

Updated: February 12, 2026, 1:05 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

بدھ کو کرلا ریلوے اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا گیا۔پمفلٹ کی تقسیم ۔ مزدوروں کو اڈانی، امبانی اور غیر ملکی کارپوریٹ کا غلام بنانے کا الزام۔

Strike.Photo:INN
ہڑتال۔ تصویر:آئی این این

مزدور مخالف ۴؍ قوانین کے خلاف آج بروزجمعرات ملک گیر احتجاج کے پیش نظر کرلا ریلوے اسٹیشن کے باہر احتجاج اور پمفلٹ کی تقسیم کی گئی ۔ ٹریڈیونینوں کی جانب سے مزدوروں کے ہرطبقے سے شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ 
اسی ضمن میں بدھ ۱۱؍فروری کی شام ۵؍بجے کرلا اسٹیشن کے باہراحتجاج اورپمفلٹ تقسیم کیا گیا جبکہ ۱۲؍فروری کو بڑی تعداد میں ٹریڈ یونینوں سے وابستہ ذمہ داران اور کارکنان باندرہ کرلا کمپلیکس میں واقع لیبر کمشنر کے دفتر کے باہر جمع ہوکر زبردست احتجاج کریں گے۔۱۰؍فروری کو اس تعلق سے بھانڈوپ میں ریلوے اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا گیا تھا ،اس میں جن وادی مہیلا سنگھٹن سے جڑی خواتین بڑی تعداد میں شامل تھیں۔
کرلااسٹیشن کے باہر احتجاج میں شامل سگندھی فرانسس (جن وادی مہیلا سنگھٹن کی تعلقہ سیکریٹری) نے کہاکہ ’’ حکومت کے ذریعے متعارف کرائے گئے مزدور مخالف قوانین کے سبب زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے،اسے واپس لینے کا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا جارہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:کیا بورڈ آف پیس غزہ کیلئے ہے؟

ہڑتال میںشامل ہونے اورزبردست احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہوئےسینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز، کے سیکریٹری شیلیندر چوہان کی جانب سے جاری کردہ پمفلٹ میںلکھا گیا ہے کہ ورکرز یونین، جوائنٹ ایکشن کمیٹی، مہاراشٹر کی ملک گیر ہڑتال میں بڑی تعداد میں شامل ہوں۔

یہ بھی پڑھئے:رُدر فورڈ اور موتی کی شاندار کارکردگی، ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو شکست دے دی

پمفلٹ میںآگے لکھا گیا کہ محنت کش بھائیو اور بہنو! ۲۱؍ نومبر ۲۰۲۵ء کومودی حکومت نے تاریخ میں ہندوستانی محنت کش طبقے کے حقوق پر سب سے بڑا اور ظالمانہ حملہ کیا ہے۔ وہ پہلےتمام لیبر قوانین کو منسوخ کر چکے ہیں۔ نئے لائے گئے چار کوڈ ٹریڈ یونینوں کو کمزور کرنے اورانہیں تباہ کرنے کے مقصد سے بنائےگئے ہیں۔اس کی وجہ سے رجسٹریشن منسوخ کرنا آسان بنا دیا گیا ہے،نئے قانون کے مطابق مستقل ملازمت کے بجائے وقتی مقررہ مدت ملازمت متعارف کرائی گئی ہے، کارخانوں کو بند کرنا بھی آسان بنا دیا گیا ہے۔ اسی طرح قانونی طور پر ہڑتال پر جانا نہ صرف مشکل بلکہ تقریباً ناممکن کردیا گیاہے۔بلا اجازت ہڑتال کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جائے گا،  پراویڈنٹ فنڈ میں آجروں کا حصہ کم کر دیا گیا ہے اور یومیہ کام کے اوقات کو ۱۲؍گھنٹے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ اس بار لیبر کوڈ کا مقصد ہندوستان کے مزدوروں کو اڈانی، امبانی اور غیر ملکی کارپوریٹ سرمایہ داروں کا غلام بنانا ہے۔اس لئے اتحاد کا مظاہرہ کیجئے اورمودی اور فرنویس حکومت کی اس سازش کو پوری طرح ناکام بنائیے۔ہم سب کویقین ہے کہ مہاراشٹر اور ملک کی متحد ٹریڈ یونینوں میں یقینی طور پر بی جے پی حکومتوں کی مزدور مخالف، عوام دشمن اور ملک مخالف سرگرمیوں کو شکست دینے کی پوری طاقت ہے۔اس لئے اپیل کی جارہی ہےکہ سرکاری شعبے کی کمپنیوں کے ملازمین، سرکاری و نیم سرکاری اداروں، کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ ساتھ مختلف سرکاری اسکیموں، بس، رکشا، ٹیکسی اور مختلف ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ملازمین، گھریلو ملازمین ا ور ہاکروغیرہ ۱۲؍فروری کی مشترکہ ہڑتال میں بڑی تعداد میں شرکت کریںاور اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK