• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزارتِ الیکٹرانکس کی ہدایت پر ایپل نے بٹ چیٹ ہندوستانی ایپ اسٹور سے ہٹا دی

Updated: October 04, 2026, 11:00 AM IST | New Delhi

مرکزی حکومت کی ہدایت کے بعد ایپل نے ایکس کے شریک بانی جیک ڈورسی کی سرپرستی میں چلنے والی آف لائن میسجنگ ایپ ’بٹ چیٹ‘ کو ہندوستانی ایپ اسٹور سے ہٹا دیا ہے۔ جیک ڈورسی نے سنیچرکو ایپل کے ایپ ریویو نوٹس کی تصویر ایکس پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستانی حکومت نے ’’باضابطہ‘‘ طور پر ایپ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایپل کے مطابق وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰ء کی دفعہ۶۹؍ اے کے تحت کارروائی کی۔ حکومت نے مبینہ غیر قانونی مواد کی نوعیت تاہم واضح نہیں کی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مرکزی حکومت کی ہدایت پر ایپل نے آف لائن میسجنگ ایپ ’بٹ چیٹ‘ کو ہندوستان کے ایپ اسٹور سے ہٹا دیا ہے۔ یہ ایپ ایکس کے شریک بانی جیک ڈورسی کی سرپرستی میں تیار کی گئی ہے اور انٹرنیٹ یا موبائل نیٹ ورک کے بغیر قریبی صارفین کو پیغامات بھیجنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ جیک ڈورسی نے سنیچرکو ایکس پر ایپل کے ایپ ریویو نوٹس کی تصویر شیئر کی۔ انہوں نے لکھا کہ ہندوستانی حکومت نے ’’باضابطہ‘‘ طور پر بٹ چیٹ کو ایپ اسٹور سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ ایپل کے نوٹس کے مطابق، کمپنی نے یہ کارروائی ہندوستانی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ہدایت پر کی۔ نوٹس میں کہا گیا کہ ایپ میں ایسا مواد شامل تھا جسے ہندوستان میں غیر قانونی سمجھا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر یہ ایپل کی ایپلی کیشنز سے متعلق قانونی شرائط پر پوری نہیں اترتی۔ 
وزارت کی ہدایت انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰ء کی دفعہ۶۹؍ اے کے تحت جاری کی گئی تھی۔ یہ دفعہ حکومت کو مخصوص قانونی وجوہات کی بنیاد پر انٹرمیڈیریز کو عوام کی معلومات تک رسائی روکنے کا اختیار دیتی ہے۔ تاہم، ایپل کے نوٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بٹ چیٹ میں موجود کون سا مواد ہندوستانی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے دفعہ۶۹؍ اے کے تحت کارروائی کی گئی مخصوص وجہ بھی ظاہر نہیں کی گئی۔ ایپل نے ڈیولپر کو مزید معلومات کیلئےوزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر مذاکرات تعطل کا شکار

امریکہ میں ایپ اب بھی دستیاب
ہندوستانی ایپ اسٹور کی لائیو کیٹلاگ چیک کئے جانے پر بٹ چیٹ وہاں دستیاب نہیں تھی، جب کہ امریکہ کے ایپ اسٹور پر ایپ بدستور موجود تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال اس کارروائی کا دائرہ ہندوستان تک محدود ہے۔ ایپل نے اپنے نوٹس میں یہ بھی بتایا کہ بٹ چیٹ دیگر منتخب ممالک میں دستیاب رہے گی۔ تاہم ہندوستان میں ایپ کا ٹیسٹ فلائٹ ورژن اندرونی یا بیرونی جانچ کیلئے بھی دستیاب نہیں ہوگا اور اس کے پبلک لنکس بھی ہندوستان میں کام نہیں کریں گے۔ اس طرح ایپ کو ہندوستان میں عام صارفین کے ساتھ ٹیسٹنگ کے ذریعے استعمال کرنے کا راستہ بھی بند کردیا گیا ہے۔ 
انٹرنیٹ کے بغیر پیغام رسانی کیسے کام کرتی ہے؟
بٹ چیٹ روایتی میسجنگ ایپس سے مختلف ہے۔ اس کے ذریعے قریبی صارفین موبائل ڈیٹا، وائی فائی، فون نمبر یا ای میل ایڈریس کے بغیر ایک دوسرے کو پیغامات بھیج سکتے ہیں۔ امریکی ایپ اسٹور پر موجود معلومات کے مطابق، ایپ محفوظ نجی پیغامات بھیجنے اور قریب موجود ڈیوائسز کے ذریعے پیغامات کو آگے منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس کا بنیادی نظام بلوٹوتھ پر مبنی میش نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتا ہے، جس میں قریبی ڈیوائسز ایک دوسرے سے جڑ کر پیغام آگے پہنچانے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان حالات میں مفید سمجھی جاتی ہے جہاں انٹرنیٹ یا موبائل نیٹ ورک دستیاب نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: میکلمور کا فری فلسطین ٹور: تینوں یورپی شوز کے تمام ٹکٹ فروخت

جولائی میں گٹ ہب پر بھی کارروائی
ہندوستانی حکومت کی جانب سے بٹ چیٹ کے خلاف یہ پہلی کارروائی نہیں ہے۔ اس سے قبل جولائی میں انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر نے سافٹ ویئر پلیٹ فارم گٹ ہب کو ہندوستان میں بٹ چیٹ سے متعلق سورس کوڈ تک رسائی روکنے کی ہدایت دی تھی۔ دی اکنامک ٹائمز، میڈیا ناما اور ٹیک کرنچ کی رپورٹس کے مطابق، اس وقت حکومت نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بٹ چیٹ جیسی ایپس کا استعمال مجرمانہ یا دہشت گرد تنظیمیں کرسکتی ہیں اور ایسی ٹیکنالوجی قانونی نگرانی اور تفتیش کے عمل میں مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ میڈیا ناما کے مطابق، اسی نوعیت کی میش میسجنگ ایپس ’برائر‘ اور ’برج فائی‘ کے حوالے سے بھی ہٹانے کے نوٹس جاری کئے گئے تھے۔ گٹ ہب پر سورس کوڈ تک رسائی محدود کئے جانے کے بعد ایپل ایپ اسٹور سے بٹ چیٹ کا ہٹایا جانا ہندوستان میں اس ایپ کی دستیابی کے ایک اور اہم راستے کو بند کرتا ہے۔ تاہم، سنیچرتک امریکہ کے ایپ اسٹور پر بٹ چیٹ دستیاب تھی اور دیگر منتخب ممالک میں بھی اس کی رسائی برقرار رہنے کی بات ایپل کے نوٹس میں کہی گئی ہے۔ اس کارروائی کے حوالے سے دی پائینیئر نے وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ایپل سے یہ جاننے کے لیے ردِعمل طلب کیا ہے کہ بٹ چیٹ میں موجود مخصوص مواد کیا تھا اور کیا دیگر ایپ اسٹورز کو بھی اسی نوعیت کی ہدایات دی گئی ہیں۔ خبر کی اشاعت تک دونوں جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK