Updated: October 03, 2026, 8:11 PM IST
| Tehran
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہونے کے باوجود کشیدگی کم نہیں ہو سکی، جبکہ جنگ بندی کی سفارتی کوششیں تاحال کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں۔ دونوں جانب فوجی تیاریاں جاری ہیں اور آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سمیت اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، تاہم مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور فریقین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ بندی اور مستقل معاہدے کے حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کئے جانے کے خدشے کے پیش نظر ایران بھی نئی فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے۔
کیمپ ڈیوڈ میں امریکی حکام کا اہم اجلاس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اعلیٰ قومی سلامتی ٹیم نے ایران اور یمن کی صورتحال پر کیمپ ڈیوڈ میں ایک اہم اجلاس کیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جس میں ایران کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات اور خطے میں آئندہ امریکی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: زیادہ اسکرین ٹائم کے سبب بچوں کی نشوونما متاثر: تحقیق
امریکا کی فوجی موجودگی میں اضافہ
امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ایک مزید طیارہ بردار بحری جہاز، یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ، خطے کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے، جبکہ نومبر کے اختتام تک خطے میں تین امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں اور دو ایمفی بیئس لینڈنگ گروپس کی موجودگی متوقع ہے۔
آبنائے ہرمز پر مذاکرات میں اختلاف
ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو آبنائے ہرمز سے متعلق سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت بعض شرائط پوری ہونے کے بعد چھٹے روز آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے۔ امریکہ نے اس کے جواب میں اپنا جوابی منصوبہ پیش کیا، تاہم ایران نے اسے ابھی قبول نہیں کیا۔ دونوں ملک آبنائے کھولنے کے طریقۂ کار اور اقدامات کی ترتیب پر اختلاف رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میکلمور کا فری فلسطین ٹور: تینوں یورپی شوز کے تمام ٹکٹ فروخت
ایران کا جوہری ذخیرے سے متعلق نیا مؤقف
تازہ مذاکرات میں ایران نے مبینہ طور پر۶۰؍ فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو پہلے مزید کم افزودگی کے مرحلے سے گزارنے اور بعد ازاں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے تسلیم شدہ طریقۂ کار کے تحت کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ تاہم دونوں جانب اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز الرٹ
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن آبنائے ہرمز کے قریب تعینات ہے، جہاں امریکی بحری اہلکار ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے کے درمیان اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق جہاز پر تقریباً ۵؍ہزار اہلکار موجود ہیں اور اس کی تعیناتی جنگ کے دوران امریکی بحری کارروائیوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا
ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ تاہم ایران میں موجود ذرائع کے مطابق تہران کو خدشہ ہے کہ جنگ دوبارہ بڑے پیمانے پر شروع ہو سکتی ہے، جبکہ امریکہ آبنائے ہرمز، پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی معاملات پر ٹھوس اقدامات چاہتا ہے۔