• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس پر۱۶۰۰؍ نئی پابندیوں کی منظوری دیدی گئی: یورپی یونین

Updated: October 13, 2026, 1:50 PM IST | Agency | Brussels

فروری۲۰۲۲ء میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد پابندیوں کی فہرست میں یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔

EU High Representative for Foreign Affairs Kaja Kallas. Photo: INN
یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ پالیسی کایا کالاس۔ تصویر: آئی این این

یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ پالیسی کایا کالاس نے بروزپیر  جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے، روس کے فوجی و صنعتی شعبے کو ہدف بنانے والی، تقریباً۱۶۰۰؍نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔سوشل میڈیا’ ایکس‘ سے جاری کردہ بیان میں کالاس نے کہا ہے کہ پابندیوں میں یہ اضافہ، فروری۲۰۲۲ء میں روس  یوکرین جنگ  کے آغاز کے بعد سے یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ان میں سے نصف سے زیادہ پابندیاں بیلسٹک میزائلوں کی تیاری  سے متعلق ہیں۔ ہم روس کیلئے، یوکرینیوں کو ہلاک کرنے میں استعمال کیے جانے والے، ہتھیار تیار کرنا نمایاں طور پر مشکل بنا رہے، ان کی تیاری کی رفتار سست کر رہے اور اس کی لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: پی ٹی آئی کے۲۷۰؍ سے زائد لیڈر و کارکنان گرفتار

یورپی یونین کونسل نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ان کے استعمال کو ہدف بنانے والے پابندیوں کے اس نظام کی میعاد میں پانچ سال کا اضافہ کر کے ا سے۳۰؍ اکتوبر۲۰۳۱ء  تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کونسل نے اس نظام کے تحت افراد پر عائد انفرادی پابندیوں کی میعاد بھی ایک سال کے اضافے  سے۳۰؍ اکتوبر۲۰۲۷ء تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ ان  پابندیوں کا دائرۂ کار فی الحال۳۱؍ افراد اور ۶؍ اداروں تک پھیلا ہوا ہے۔ فہرست میں شامل افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور یورپی یونین کے شہریوں اور کمپنیوں کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انہیں مالی وسائل یا اقتصادی ذرائع فراہم نہ کرنے کا پابند کر دیا گیا ہے۔فہرست میں شامل روسی افراد کیلئے یورپی یونین کے رکن ممالک کا سفربھی ممنوع  ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK