• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان: پی ٹی آئی کے۲۷۰؍ سے زائد لیڈر و کارکنان گرفتار

Updated: October 13, 2026, 1:45 PM IST | Agency | Islamabad

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری، عمران خان کی پارٹی نےایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قراردیا۔

A man reading a newspaper at a stall in Peshawar following the imposition of the state of emergency. Photo: Agency
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور کے ایک اسٹال پر ایک شخص اخبار پڑھتے ہوئے۔ تصویر: ایجنسی
پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں جاری ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرکے صوبائی حکومت معطل کیے جانے کے ایک روز بعد سیاسی کارروائیوں میں مزید شدت آگئی ہے۔
پاکستانی اخبارات کی خبروں  کے مطابق، پی ٹی آئی نے ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی اور جماعت کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وفاقی حکومت کو عمران خان کی رہائی اور  علاج کا مطالبہ تسلیم نہیں ہے اس لئے ان کے حامیوں کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے سے روکنا چاہتی ہے۔ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق، پی ٹی آئی ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی معطلی کو عدالت میں چیلنج کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ اور دیگر اعلیٰ آئینی فورمز سے رجوع کرنے کے امکانات زیر غور ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اتوار کو ایمرجنسی کے اعلان کے بعد سے صوبے میں عمران خان کی جماعت  کے۲۷۰؍ سے زائد اراکین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
 
 
وزیر داخلہ طلال چودھری نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض اراکین کو احتیاطی حراست میں لیا گیا ہے ۔ اس اقدام کے بعد عمران خان کے سیاسی گڑھ سمجھے جانے والے خیبر پختونخوا کا انتظام براہ راست شہباز شریف کی قیادت والی وفاقی حکومت کے کنٹرول میں آگیا ہے، جس سے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔ اکتوبر کے اوائل سے خیبر پختونخوا میں ہزاروں افراد عمران خان کی رہائی اور افغان سرحد کے قریب فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور صوبائی انتظامیہ دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان کی حمایت اور فوجی کارروائیوں کے خلاف مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔
ایمرجنسی کا نفاذ عمران خان کے حامیوں کے اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ سے قبل کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے حکومت کے جواز کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس اقدام کا مقصد احتجاج روکنا اور صوبے میں جماعت کی سیاسی گرفت کمزور کرنا ہے۔وزیر داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان پر الزامات عائد کرکے مقدمات چلائے جائیں گے جبکہ دیگر افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔ سہیل آفریدی کو ابتدا میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر حفاظتی تحویل میں رکھا گیا، جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK