تھانے کے کسن نگر میں کلسٹر اسکیم کو ا علیٰ سطحی کمیٹی کی جانب سے منظوری

Updated: March 19, 2022, 8:24 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

میونسپل کمشنر کے مطابق ماسٹر لے آؤٹ کا کام سڈکو کلسٹر ڈیولپمنٹ کرے گا۔علاقے کے نگراں وزیر کا خوشی کا اظہار

The illegally dilapidated buildings of Kisan Nagar will be demolished and new buildings will be constructed.
کسن نگر کی غیرقانونی خستہ حال عمارتوں کو منہدم کرکےنئی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔

:تھانے  میونسپل کارپوریشن ( ٹی ایم سی ) کی حدود میں واقع خستہ حال اور غیر قانونی عمارتوںکے مکینوں کو قانونی    ٹاؤن شپ کے تحت مکانات مہیا کرانے کیلئے کلسٹر اسکیم کا پہلا مرحلہ تھانے کے کسن نگر علاقے سے شروع کیا جائے گا ۔ تھانے میونسپل کارپوریشن کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اس پروجیکٹ کو منظوری دے دی ہے ۔یہاں کلسٹر کے ۲؍ ماسٹر لے آؤٹ کا  کام سڈکو کلسٹر ڈیولپمنٹ کرے گا۔ اس کی اطلاع تھانے میونسپل کمشنر نے دی ۔ شہری ترقیات  کے وزیر ایکناتھ شندے جو  تھانے کے نگراں وزیر  ہیں،  نے  خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اب کسن نگر میں کلسٹر ڈیولپمنٹ کی راہ  ہموار ہو گئی ہے اور  شہریوں کو قانونی اور بہترین عمارتوں میں مستقل مکان میسر آ سکے گا  ۔منگل ٹی ایم سی کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اس اسکیم کومنظوری  دی ہے ۔
 تھانے میونسپل کارپوریشن کے ذرائع کے مطابق  طویل انتظار کے بعد کلسٹر اسکیم کا ایک اور اہم سنگ میل منگل کو پار کیا گیا۔ کسن نگر میں یو آر سی -۱؍  اور یو آر سی ۲؍کے ماسٹر لے آؤٹ کو منگل کو تھانے میونسپل کارپوریشن کی اعلیٰ اختیاری کمیٹی نے منظوری دی ہے۔ اس لئے سڈکو کے ذریعے اب سڑکوں کو کشادہ کرنے اور عمارتوں کی تعمیر کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔واضح رہے کہ شہری ترقیات کے  وزیر وزیر ایکناتھ شندے  اوروزیر ہاؤسنگ   جتیندر اوہاڑ کی مسلسل کوششوں کے تحت کلسٹر اسکیم کو لاگو کیا جا رہا ہے تاکہ تھانے میں خطرناک غیر قانونی عمارتوں میں رہنے والے لاکھوں  شہریوں کو محفوظ اور قانونی مکان مل سکے۔ اسکیم کے پہلے مرحلے کے تحت کسن نگر میں غیر قانونی  خطرناک عمارتوں کے مکینوں کی مستقل بازآبادکاری کی جائے گی اور انہیں ایک محفوظ اور قانونی مکان فراہم کیا جائے گا۔ کسن نگر میں کلسٹر اسکیم کو سڈکو کے ذریعے لاگو کیا جائے گا جس کیلئے سڈکو اور تھانے میونسپل کارپوریشن کے درمیان پہلے ہی ایک قرار داد پر دستخط ہو چکے ہیں۔
 کلسٹر اسکیم کے تحت ورتک نگر میں ٹرانزٹ کیمپ کی عمارت کی تعمیر کا کام شروع ہوچکا ہے۔ اب جبکہ کسن نگر میںیو آر سی ۱؍ اور یو آر سی ۲؍ کے ماسٹر لے آؤٹ کوتھانے میونسپل کارپوریشن کی اعلیٰ اتھاریٹی کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔ ماسٹر لے آؤٹ کی منظوری کے ساتھ، واگلے اسٹیٹ روڈ نمبر۲۲؍ کو  ۴۰؍ میٹر چوڑا کرنے کا کام شروع ہونے والا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ شہریوں کی  مستقل بازآبادکاری کیلئے یوآر سی ۱؍ اور یو آر سی ۲؍ لے آؤٹ کے لئے  سڈکو اب خالی پلاٹوں پر عمارتوں کی تعمیر کا کام شروع کر سکے گا۔
 اس سلسلے میں شہری ترقیات کے وزیر ایکناتھ شندے نے کہا کہ ’’کسن نگر یو آر سی۱؍ اور یو آر سی۲؍ کے ماسٹر لے آؤٹ کی منظوری کے بعد اصل عمل آوری اب سڈکو کے ذریعے شروع ہوگی۔ طویل جدوجہد کے بعد بالآخر۲۰؍  سال کا خواب پورا ہونے والا ہے۔ ورتک نگر میں کلسٹر اسکیم کے تحت ٹرانزٹ کیمپ کی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ یہاں کے خالی پلاٹوں پر شہریوں کی مستقل بازآبادکاری کیلئےعمارتوں کی تعمیر کی جائے گی۔‘‘
   تھانے کے میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما کے مطابق   یو آر سی ایک اور یو آر سی ۲؍کے ماسٹر لے آؤٹ کو اعلیٰ سطحی کمیٹی نے منظور کیا۔ ماسٹر لے آؤٹ بالکل اس بات کا خاکہ پیش کرتا ہے کہ ان دونوںیو آر سی  میں کیا سہولیات ہوں گی۔ اس منظوری کے بعد اب اس کلسٹراسکیم کے تحت عمارتوں کی تعمیر کی اجازت کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات مہیا کرانے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔
  واضح رہے کہ ممبرا اور تھانے شہر میں غریب عوام نے بڑی تعداد میں غیر قانونی عمارتوں میں  مکانات خریدے ہیں کیونکہ یہ سستی قیمتوں پر دستیاب تھے لیکن خستہ حال ہونے اور تھانے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے متعدد نوٹس دینے کے باوجود یہ غریب افراد اسی لئے مکانات خالی نہیں کر رہے تھے کہ عمر بھر کی کمائی سے خریدا گیا  مکان ان سے چھن جائے گا اور وہ بے گھر ہو جائیں  گے ۔اسی لئے متعدد مرتبہ  میونسپل افسران جب کسی غیر قانونی اور خطرناک عمارتوںکو خالی کرانے پہنچتے ہیں توانہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور  یہی مطالبہ کیاجاتا ہے کہ پہلے انہیں متبادل گھر دیاجائے، اس کے بعد ہی وہ مکان خالی کریں گے ۔ دوسری جانب سے شہری انتظامیہ کی جانب سے متبادل رہائش گاہ  دینے کا سلسلہ بند کر دیاگیاہے، البتہ عارضی رہائش کیلئے انہیں رینٹل اسکیم میں ماہانہ ۲؍ ہزار روپے کرایہ پر مکان دیاجاتا ہے۔  ان مخدوش عمارتوں کے مکینوں کے مسائل کے مستقل حل کیلئے وزیرہاؤسنگ جتیندر اوہاڑ اور شہری ترقیاتی وزیر ایکناتھ شندے نے برسوں قبل احتجاج کیا تھا  اور کلسٹر ڈیولپمنٹ کے تحت  قانونی مکان دینے کامطالبہ کیاتھا۔

thane Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK