Updated: May 25, 2026, 8:09 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اتحادی عرب جماعت Ra’am کو آئندہ کنیسٹ انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے سیاسی اور قانونی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلامی تحریک اور غزہ سے متعلق عطیات کے الزامات کو بنیاد بنا کر پابندی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے سیاسی اتحادی عرب جماعت Ra’am، جسے متحدہ عرب لسٹ بھی کہا جاتا ہے، پر آئندہ کنیسٹ انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ اسرائیلی چینل ۱۳؍ کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کے اتحادی حلقوں میں ہونے والی حالیہ بات چیت کا مرکز اسلامی تحریک کے خلاف کارروائی ہے، جسے رعام کی بنیادی تحریک تصور کیا جاتا ہے۔ دائیں بازو کے بعض حلقے الزام لگا رہے ہیں کہ اس تحریک نے غزہ کے لیے عطیات منتقل کیے، جسے وہ جاری جنگ کے تناظر میں متنازع قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں نیتن یاہو کے قریبی دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ اس منصوبے کے لیے کنیسٹ میں نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی سیکوریٹی اداروں، خصوصاً شین بیت کی سیکوریٹی تشخیص بھی درکار ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ معاہدے کے لیے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں: ایرانی وزارت خارجہ
تاحال نہ تو نیتن یاہو کے دفتر اور نہ ہی رعام کی جانب سے ان رپورٹس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ منصور عباس کی قیادت میں رعام نے ۲۰۲۱ء میں اسرائیلی سیاست میں ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے نفتالی بینیٹ اور یائر لیپیڈ کی مخلوط حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی عرب جماعت نے اسرائیلی حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، جس پر اسرائیل اور عرب برادری دونوں میں وسیع بحث ہوئی تھی۔ اس وقت رعام کے پاس اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں پانچ نشستیں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی سیاسی ماحول میں عرب جماعتوں اور فلسطینی حامی تنظیموں کے خلاف دباؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دائیں بازو کے اسرائیلی حلقے مسلسل بعض عرب جماعتوں اور سماجی تحریکوں پر ’’دہشت گردی کی حمایت‘‘ یا غزہ کے حوالے سے ’’مشکوک سرگرمیوں‘‘ کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیشرفت اسرائیل میں بڑھتی ہوئی سیاسی قطبیت اور غزہ جنگ کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عرب سیاسی نمائندگی مسلسل دباؤ کا شکار بنتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم لیڈران ایران جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل سے امن معاہدے کریں:ٹرمپ
خیال رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی موجودہ مدت اکتوبر میں ختم ہونا ہے، تاہم بدھ کو قانون سازوں نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے لیے ابتدائی ووٹنگ کی منظوری دی تھی۔ اگر یہ بل مزید تین مراحل سے منظور ہو جاتا ہے تو ملک میں قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ پر اپنی فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد سے خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی، انسانی بحران اور سیاسی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔