اس صنعت سے ریوینیو بڑھانے اور دیگر فائدہ اٹھانے کیلئے یہ پابندی ہٹائی گئی، ماہرین صحت نے تشویش ظاہر کی۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 1:15 PM IST | Buenos Aires
اس صنعت سے ریوینیو بڑھانے اور دیگر فائدہ اٹھانے کیلئے یہ پابندی ہٹائی گئی، ماہرین صحت نے تشویش ظاہر کی۔
نکوٹین مصنوعات سے متعلق عالمی سطح پر پالیسی میں تبدیلی کے رجحان کے درمیان جنوبی امریکی ملک ارجنٹائنا اور ہندوستان کے پڑوسی ملک بنگلہ دیش نے نکوٹین مصنوعات سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ارجنٹائنا نےای سگریٹ اور ہیٹڈ ٹوبیکو پروڈکٹس پر تقریباً۱۵؍ برس سے عائد پابندی کو اسی ماہ ختم کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش نے بھی کم و بیش ایسا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اس صنعت پر پابندی ہونے کی وجہ سے بلیک مارکیٹنگ بڑھ رہی تھی اور حکومتوں کو ریوینیو اور ٹیکس کا نقصان ہو رہا تھا ۔ اسی لئے ارجنٹائنا اور بنگلہ دیش دونوں نے ہی پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا ۔ لیکن نکوٹین کے خطرات پر فی الحال دونوں جانب سے خاموشی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملک کی شرح نمو ۹ء۶؍ فیصد رہنے کا امکان
واضح رہے کہ ارجنٹائنا میں گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے نکوٹین مصنوعات پر سخت پابندی تھی مگر اس کے باوجود ان کا استعمال ختم نہیں ہو سکا۔ الٹا یہ مصنوعات خفیہ اور غیر قانونی بازار کے ذریعے فروخت ہوتی رہیں جس کے باعث نہ تو ان کے معیار کی نگرانی ممکن رہی، نہ خریداروں کی عمر کی تصدیق ہو سکی اور نہ ہی مصنوعات کی ٹریسنگ کا کوئی مؤثر نظام قائم ہو سکا۔ساتھ ہی یہاںصنعتی ترقی کے اداروں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جارہا تھا کہ اس صنعت کو بھی محدود پیمانے پر بڑھنے دیا جائے۔ اس سے سرکار کے ریوینیو میں اضافہ ہو گا۔ اسی دوران بنگلہ دیش نے بھی نکوٹین مصنوعات کے بازار کو کنٹرولڈ انداز میں کھولنے اور ضابطوں کے تحت لانے کی پالیسی اختیار کی ہے۔اس ضمن میں نئی دہلی کے ایمس کے کمیونٹی میڈیسن سینٹر کے سابق سربراہ ڈاکٹر چندرکانت ایس نے سوال اٹھایا کہ ایک خطرہ کو ختم کرنے کیلئے دوسرے خطرہ کو جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ دنیا بھر میں پھیپھڑوں کی بیماریوں کی سب سے بڑی اور قابلِ تدارک وجہ اب بھی سگریٹ نوشی ہے۔