Inquilab Logo Happiest Places to Work

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کا مدھو کشور کو پیشگی ضمانت دینے سے انکار

Updated: May 31, 2026, 12:50 PM IST | Chandigarh

مدھوکشور پرسوشل میڈیا پوسٹ میںوزیر اعظم مودی کے تعلق سے گمراہ کن مواد پھیلانے کا الزام ہے، عدالت نے ان کی پوسٹ کوملک کیلئے خطرہ قراردیا۔

Madhu Kishwar, a well-known social media personality and scholar. Photo: INN
سوشل میڈیا کی معروف شخصیت اور اسکالر مدھو کشور۔ تصویر: آئی این این

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نےمدھو کشور کو اس مقدمے میں پیشگی ضمانت  دینے سے انکار کر دیا، جس میں ان پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر گمراہ کن دعوے پھیلانے کا الزام ہے۔ مدھو کشور نے۱۸؍ اپریل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر یا مبینہ طور پر ری پوسٹ کی تھی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس میں نریندر مودی دکھائی دے رہے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق بعد میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا اور ویڈیو میں موجود شخص مودی نہیں تھا۔ بعد ازاں یہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔اس معاملے میں چنڈی گڑھ پولیس نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ مدھو کشور کے خلاف بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت رپورٹ درج کی گئی ہے، جن میں ہتک عزت ، مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ ، سماجی ہم آہنگی کو نقصان، دھوکہ دہی، جعل سازی، جعلی دستاویز یا الیکٹرانک ریکارڈ کو اصلی کے طور پر استعمال کرنا، عوامی فساد یا شر انگیزی کا باعث بننے والے بیانات دیناشامل ہیں۔اس کے علاوہ ان پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی بعض دفعات بھی عائد کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ بس ڈپو کے بیڑے میں ۱۰؍ شیوائی ای بسیں شامل، رکن اسمبلی نے افتتاح کیا

جسٹس امن چودھری نے اپنے حکم میں کہا کہ مدھو کشور نے بار بار نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود پولیس تفتیش میں تعاون نہیں کیا اور تفتیشی ایجنسی کے سامنے پیش نہیں ہوئیں۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مدھو کشور ایک معروف سوشل میڈیا شخصیت اور اسکالر ہیں، اس لیے یہ نہیں مانا جا سکتا کہ وہ اپنی پوسٹ کے ممکنہ اثرات سے ناواقف تھیں۔عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگرچہ ویڈیو پہلے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود تھی، لیکن مدھو کشور کے تبصرے کے ساتھ اسے شیئر کرنے کے بعد اسے تقریباً ۱ء۷؍ لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔عدالت کے مطابق ویڈیو کو ایک آئینی عہدے پر فائز شخصیت سے مشابہ قرار دینے کی قیاس آرائیاں کی گئیں اور بعد میں ان کی جانب سے دوبارہ پوسٹ کرنے سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: ملیح آباد: کسمنڈی کلاں کے سروے میں مسجد اور قبروں کے شواہد پائے گئے

عدالت نے مدھو کشور کی بعض دیگر مبینہ متنازع پوسٹوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ’تعمیری تنقید‘ اور کسی شخص کو بدنام کرنے، اس پر الزامات لگانے یا اس کی کردار کشی کرنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ جب بڑی تعداد میں فالوورز رکھنے والا شخص ایسی پوسٹ کرتا ہے تو اس کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔عدالت کے مطابق ایسی پوسٹ سماجی بے چینی، علیحدگی پسند جذبات اور ملک کی وحدت و سالمیت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔عدالت نے کہا کہ مقدمے میں استعمال کیے گئے طریق کار کی مکمل حقیقت ابھی سامنے آنا باقی ہے، اس لیے اس مرحلے پر مدھو کشور کو پیشگی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔مدھو کشور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی پوسٹ کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں تھی اور انہیں غلط طور پر مقدمے میں ملوث کیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے محض ویڈیو کو ری ٹویٹ کیا تھا۔دوسری جانب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مدھو کشور نے صرف ری ٹویٹ نہیں کیا بلکہ مبینہ طور پر کسی دوسرے پلیٹ فارم سے ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرکے اپنے اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی تھی۔پولیس کے مطابق انہوں نے نہ صرف غلط معلومات کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا بلکہ حکومت کے سربراہ کی شبیہ کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK