Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک طرف گرفتاریاں، تلاشی، دوسری طرف عدالت سےرجوع

Updated: May 14, 2026, 6:31 AM IST | New Delhi

سی بی آئی سرگرم، اب تک ۵؍ گرفتار، متعدد جگہوں پر چھاپے۔ میڈیکل فیڈریشن سپریم کورٹ پہنچا ، درخواست کی کہ دوبارہ امتحان عدالتی نگرانی میں ہو

Those arrested in the Netpaper leak case were produced in a court in Jaipur. (Photo: PTI)
نیٹ پیپر لیک معاملے میں گرفتار کئے گئے افراد کو جے پور میں عدالت میں پیش کیا گیا۔(تصویر: پی ٹی آئی )

میڈیکل داخلہ امتحان ’’نیٹ‘‘ کا پرچہ افشاء (لیک) ہونے اور پھر ۳؍ مئی کا امتحان منسوخ ہونے سے اس امتحان میں شریک ہونے والے ۲۳؍ لاکھ طلبہ کو جس ذہنی اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ حالانکہ اس کی تفتیش ’’سی بی آئی‘‘ کے حوالے کردی گئی ہے جس نے تفتیش شروع ہی نہیں کی چند گرفتاریاں بھی کی ہیں اور کئی جگہوں پر چھاپے بھی مارے ہیں مگر سوال یہی ہے کہ کیا اس سے طلبہ کو راحت مل جائیگی؟ اُنہیں دوبارہ امتحان تو دینا ہی ہوگا جبکہ دوبارہ امتحان کیلئے ویسا جوش و خروش نہیں پیدا ہوپاتا جیسا کہ ابتدائی مرحلے میں یعنی ’’امتحان کے وقت امتحان‘‘ دیتے وقت ہوتا ہے۔ 
 اطلاعات کے مطابق سی بی آئی نے ملک کے مختلف حصوں سے تادم ِ تحریر ۵؍ افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر شبہ ہے کہ وہ پیپر لیک کے گورکھ دھندے کا حصہ بنے۔ مذکورہ ۵؍ میں سے ۳؍ افراد جے پور سے گرفتار کئے گئے ہیں جبکہ ایک گروگرام سے اور ایک ناسک سے حراست میں لیا گیا۔ فی الوقت ان سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ واضح رہے کہ منگل، ۱۲؍ مئی کو محکمۂ اعلیٰ تعلیم، وزارت تعلیم (حکومت ہند) کی جانب سے سی بی آئی کو ایک تحریری شکایت بھیجی گئی تھی جس کی بنیاد پر یہ کارروائیاں جاری ہیں۔ بدھ کو سی بی آئی نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے صدر دفتر کا بھی دورہ کیا اور نیٹ امتحان کے ذمہ دار افسران سے پوچھ تاچھ کی۔ 
 اس دوران فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل اسوسی ایشنس (فائما ) نے نیٹ امتحان کے انعقاد میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ’’مکمل امتحانی نظام کی ناکامی‘‘ (سسٹمک فیلوئر) کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ ایڈوکیٹ تنوی دوبے کے ذریعہ پیش کی گئی عرضداشت میں گزارش کی گئی ہے کہ عدالت یا تو این ٹی اے کو برخاست کرکے اس کی جگہ کسی اور ادارہ کے قیام کی ہدایت دے یا اس کی تشکیل نو کا حکم جاری کرے اور نیٹ امتحان کا دوبارہ انعقاد (جس کا اعلان خود این ٹی اے کرچکی ہے) کو عدالتی نگرانی میں کروائے۔ 
 عرضداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت، مرکزی حکومت کو حکم دے کہ وہ این ٹی اے کو تحلیل کرکے اس کی جگہ ایک جامع، تکنالوجی کے اعتبار سے جدید، بے نقص اور خود مختار ادارہ قائم کرے۔ درخواست گزار ادارہ فائما نے عدالت سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ جب تک کوئی مضبوط اور جامع ادارہ تشکیل نہیں پا جاتا تب تک نیٹ ۲۰۲۶ء کا دوبارہ امتحان ایک اعلیٰ اختیاری نگراں کمیٹی کے ماتحت کرایا جائے جس کی قیادت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے سپرد ہو۔ یہی نہیں بلکہ سوالیہ پرچوں کی ڈجیٹل لاکنگ کے انتظام کی ہدایت دی جائے نیز کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (سی بی ٹی) ماڈل جاری کیا جائے تاکہ پرچہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی علت ختم ہو اور پرچہ کے افشاء ہونے کی گنجائش  نہ رہے۔ فیڈریشن فائما نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سی بی آئی کو بھی حکم دے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر پرچہ لیک معاملے کی مکمل تفصیل عدالت کو پیش کرے جس میں واضح کیا جائے کہ وہ کون سا نیٹ ورک ہے جس کی شناخت کی گئی ہے، کتنی گرفتاریاں ہوئی ہیں، کن لوگوں پر الزامات عائد کئے گئے ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ کس مرحلے میں ہے۔ 
 فائما نے جس انداز میں عدالت سے التجا کی ہے، بالخصوص پیپر لیک کرنے والے نیٹ ورک، ہونے والی گرفتاریاں، چارج شیٹ وغیرہ، اُس سے ایسا لگتا ہے کہ تعلیمی اُمور سے دلچسپی رکھنے والے ملک بھر کے بے شمار لوگوں کی طرح فائما کو بھی اطمینان نہیں ہے کہ تفتیش کسی منطقی نتیجے پر پہنچے گی۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ اب تک پرچہ لیک کے جتنے بھی معاملے منظر عام پر آئے ان کی وجہ سے امتحان تو ملتوی ہوئے، دوبارہ لئے گئے یا اسی انداز کی کوئی اور کارروائی کی گئی مگر طلبہ کے تعلیمی کریئر کے ساتھ سخت ناانصافی کرنے والے مافیا کے خلاف کیا کارروائی ہوئی یہ بات عموماً منظر عام پر نہیں آئی۔ یہی نہیں بلکہ پیپر لیک کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کی جانب کوئی ٹھوس پیش قدمی بھی نہیں ہوئی۔ اگر نیٹ نہیں تو کسی اور مقابلہ جاتی امتحان کا پرچہ لیک ہوجاتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی بہت طاقتور گروہ اس کے پس پشت ہے جس تک پہنچنا اور اسے بے اثر کرنا ہی مسئلہ کا حل ہے۔
 اس دوران جموا رام گڑھ (ضلع جے پور) سے دو ایسے بھائیوں کی گرفتاری ہوئی ہے جن میں سے ایک کا تعلق بی جے پی سے بتایا جارہا ہے۔ ان کے نام دنیش بیوال (سابق بی جے پی یوتھ ونگ لیڈر) اور مانگی لال بیوال ہیں  جنہوں نے مبینہ طور پر افشاء شدہ پرچے طلبہ میں تقسیم کئے۔ ناسک سے ہونے والی گرفتاری کے دوسرے دن اطلاع ملی کہ جس شخص کی گرفتاری عمل میں آئی اس کا نام شوبھم کھیرنار ہے  جسے ممبئی کی عدالت نے سی بی آئی کی۲؍ دن کی عبوری تحویل میں دیا ہے۔   

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK