Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکاٹ لینڈ: ہائر میتھس کا مشکل امتحانی پرچہ، طلبہ رو پڑے،۱۱؍ ہزار آن لائن پٹیشن

Updated: May 13, 2026, 10:04 PM IST | Edinburgh

اسکاٹ لینڈ میں ہائر میتھس اگزام کا پرچہ مشکل ہونے کی وجہ سے طلبہ رو پڑے،اس امتحان میں ۱۱؍ ہزار سے زائد طلبہ شریک تھے،اس کے بعد اس امتحان کی ذمہ دار تنظیم کے خلاف آن لائن پٹیشن پر ۱۱۰۰۰؍ طلبہ نے دستخط کئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

اسکاٹ لینڈ میں ہائر میتھس کے امتحان میں شریک ہونے والے تقریباً۱۱؍ ہزار طلبہ اس وقت شدید تذبذب میں مبتلا ہو گئے جب امتحان میں استعمال ہونے والے ’’کمانڈ ورڈز‘‘ (ہدایتی الفاظ) ان کی مشق سے بالکل مختلف تھے۔ جسکے بعد طلبہ نے امتحانی پرچے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ریاضی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ پرچے میں کوئی خرابی نہیں تھی۔اس کے بعد ان طلبہ نے پرچے کا جائزہ لینے کی درخواست کرتے ہوئے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پرچہ پچھلے برسوں کے پرچوں سے یکسر مختلف تھا اور اس میں ناقابلِ فہم الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔جبکہ طلبہ کو خدشہ ہے کہ اس کا اثر ان کے حتمی نتائج پر پڑے گا اور ان کے مستقبل کے کورس متاثر ہوں گے۔
واضح رہے کہ یہ امتحان۷؍ مئی کو لیا گیا تھا، اور پٹیشن کے مطابق یہ پرچہ ’’ناقص الفاظ میں لکھا گیا، غیر مستقل طور پر ترتیب دیا گیا، اور گزشتہ تمام پرچوں کے مقابلے میں بےربط تھا۔‘‘ طلبہ نے بتایا کہ ’’کمانڈ ورڈز‘‘ (جو امتحان دینے والوں کو بتاتے ہیں کہ سوال کا جواب کیسے دینا ہے)، ان کی تیاری اور انہیں دی گئی ہدایات  سے مختلف تھے۔ اس کی وجہ سے وہ الجھن کا شکار ہو گئے کہ ان سے کیا سوال کیاجا رہا ہے، اور انہیں خدشہ تھا کہ انہوں نے ممکنہ طور پر بالکل مختلف جواب دیا ہے۔ تقریباً ۲۰؍ ہزار افراد نے ہائر میتھس کا امتحان دیا، جو پہلی بار کوالیفیکیشنز اسکاٹ لینڈ کے تحت منعقد ہوا۔ یہ ادارہ اس سال کے شروع میںا سکاٹش کوالیفیکیشنز اتھاریٹی (SQA) کی جگہ بنایا گیا تھا، جبکہ اتھاریٹیپر اساتذہ اور سیاستدانوں کی جانب سے کرونا وبا کے دوران گریڈکے طریقے اور۲۰۲۴ء کے ہائر ہسٹری امتحانی پرچے سے نمٹنے پر تنقید کی گئی تھی۔ جس کے بعد اسے ختم کر دیا گیا اور کوالیفیکیشن اسکاٹ لینڈ نے اس کی جگہ لی۔

یہ بھی پڑھئے: لاکھوں طلبہ کے ساتھ دھوکہ، نیٹ امتحان منسوخ، چوطرفہ غم و غصہ

تاہم، اب ریاضی کے پرچے سے جڑا تنازعہ نئے ادارے کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔دراصل امتحانی پرچہ دو حصوں میں تقسیم تھا، اور دونوں حصے ہزاروں طلبہ کے لیے تذبذب کا باعث بنے۔ شکایت صرف پہلے حصے سے منسلک ہے، لیکن چونکہ پہلے حصے کے الفاظ نے گھبراہٹ پیدا کر دی، اس لیے وہ دوسرا حصہ دیتے ہوئے بھی دباؤ میں تھے۔ ایبرڈین میں پانچویں سال کی ایک طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ امتحان کے لیے اچھی طرح تیار تھی اور اس نے گزشتہ چار سالوں کے پرچوں کی مشق کی تھی۔ پہلے پرچے میں خراب کارکردگی کا مطلب یہ تھا کہ وہ دوسرا پرچہ دیتے ہوئے پہلے ہی دباؤ میں تھی۔پانچویں سال کے ایک اور طالب علم نے میڈیا کو بتایا کہ ’’ امتحان گاہ نکلتے ہوئے لوگ رو رہے تھے کیونکہ یہ ممکنہ طور پر مستقبل بدل دینے والا امتحان تھا۔تاہم پٹیشن کے کوئی نتائج برآمد ہونے کا امکان نہیں کیونکہ ٹیچنگ یونین کا حصہ بننے والے ریاضی کے اساتذہ نے کہا ہے کہ امتحان منصفانہ تھا۔ کوالیفیکیشن اسکاٹ لینڈ کے ترجمان نے کہا، "تمام امتحانی پرچے تجربہ کار سبجیکٹ ٹیچرز بشمول پرنسپل کی سرپرستی میں بنائے اور جانچے جاتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ واضح، منصفانہ اور سیکھنے والوں کے لیے موزوں ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK