Updated: May 13, 2026, 10:04 PM IST
| New york
امریکی اخبار The New York Times کی ایک تفصیلی تحقیقات میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیل نے Eurovision Song Contest کو غزہ جنگ کے دوران اپنی عالمی شبیہ بہتر بنانے کے لیے ایک ’’سافٹ پاور‘‘ پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارتِ خارجہ اور وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے حسبارا نیٹ ورک سے منسلک اداروں نے لاکھوں ڈالر کی تشہیری مہمات، سفارتی رابطوں اور ٹیلی ووٹ مہمات کے ذریعے اسرائیلی امیدواروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی ایک نئی تفصیلی تحقیقات نے اسرائیل اور Eurovision Song Contest کے تعلق پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ جنگ پر بڑھتی ہوئی عالمی تنقید کے دوران یوروویژن کو محض ایک موسیقی مقابلے کے بجائے ’’سافٹ پاور‘‘ اور عالمی امیج مینجمنٹ کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ تحقیقات کے مطابق یہ مہم خاص طور پر ۲۰۲۳ء کے بعد تیز ہوئی، جب غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر شدید سفارتی اور عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور ان سے منسلک اداروں نے متعدد سالوں کے دوران اسرائیلی یوروویژن انٹریز کی تشہیر پر مجموعی طور پر ایک ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ مالمو میں منعقد ہونے والے ۲۰۲۴ء مقابلے کے لیے مبینہ طور پر کم از کم ۸؍ لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے۔
یہ بھی پڑھئے : ایران نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے کم از کم ۵؍ ضمانتیں مقرر کیں
رپورٹ کے مطابق اس فنڈنگ کا بڑا حصہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ سے آیا جبکہ اضافی مالی مدد وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے پبلک ڈپلومیسی نیٹ ورک، جسے ’’حسبارا‘‘ کہا جاتا ہے، سے منسلک ذرائع نے فراہم کی۔ تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی مہم کا مرکزی ہدف یورپی عوامی رائے پر اثر ڈالنا تھا۔ اس مقصد کے لیے متعدد زبانوں میں ڈجیٹل اشتہارات چلائے گئے جن میں ناظرین کو اسرائیلی امیدوار کے حق میں بار بار ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی گئی۔ بعض اشتہارات میں ناظرین سے کہا گیا کہ وہ یوروویژن کے ٹیلی ووٹنگ سسٹم کے تحت دستیاب زیادہ سے زیادہ ووٹ استعمال کریں۔ یہ اشتہارات مبینہ طور پر یوٹیوب، گوگل، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور بڑے شہروں کے بل بورڈز پر نشر کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء کے یوروویژن سائیکل کے دوران ٹائمز اسکوائر میں بھی اسرائیلی تشہیری مہم کے بل بورڈز لگائے گئے۔
تحقیقات میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ بعض یورپی نشریاتی اداروں پر سفارتی دباؤ ڈالا گیا تاکہ وہ اسرائیل کی شرکت کے خلاف عوامی موقف اختیار نہ کریں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سفارت خانوں نے کم از کم تین ممالک کے براڈکاسٹروں سے براہ راست رابطے کیے جبکہ یورپین براڈکاسٹنگ یونین (ای بی یو) کے اندر اسرائیل کی شرکت پر شدید بحث جاری رہی۔ اگرچہ ای بی یو نے عوامی طور پر کسی بھی غیر قانونی ووٹنگ یا بوٹ سرگرمی سے انکار کیا، مگر تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض براڈکاسٹروں نے اسرائیلی امیدواروں کے غیر معمولی مضبوط ٹیلی ووٹ نتائج پر سوال اٹھائے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں روایتی طور پر اسرائیل کو زیادہ عوامی حمایت حاصل نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھئے : ’’اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تقریباً نصف علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیاہے‘‘
۲۰۲۴ء کے Eurovision Song Contest کے دوران غزہ جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج بھی دیکھنے میں آئے۔ اسرائیلی امیدوار ایڈن گولان نے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت مقابلے میں حصہ لیا۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ٹی وی نشریات میں اسرائیل مخالف ردعمل اور نعروں کو کم دکھایا گیا۔ یہ تنازع ۲۰۲۶ء کے یوروویژن مقابلے تک پھیل چکا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اسپین، آئرلینڈ، سلووینیا، آئس لینڈ اور نیدرلینڈس سمیت کئی ممالک نے یا تو اسرائیل کی شرکت پر اعتراض کیا یا مقابلے سے دستبرداری پر غور کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یوروویژن، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد ثقافتی اتحاد کے تصور کے تحت شروع ہوا تھا، اب جغرافیائی سیاست اور ریاستی امیج سازی کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ای بی یو اب بھی اس بات پر قائم ہے کہ مقابلے کی سالمیت محفوظ ہے اور تمام ممالک کو اظہار اور شرکت کا مساوی حق حاصل ہے۔