Updated: May 13, 2026, 10:06 PM IST
| Muzaffarpur
بہار کے مظفر پور میں واقع تقریباً ۹۰؍ سال پرانا اسلام پور لہتھی بازار شدید کاروباری بحران سے گزر رہا ہے۔ تاجروں اور کاریگروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران اور امریکہ اسرائیل تنازع، نے خام مال اور آرائشی سامان کی سپلائی متاثر کر دی ہے۔ اس کے باعث لہتھی چوڑیوں کی قیمتوں میں ۲۵؍ سے ۳۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ شادیوں کے سیزن کے باوجود خریدار کم ہو گئے ہیں۔
چوڑیوں کی کھنک، سودے بازی کی آوازیں اور کاریگروں کی مصروف ورکشاپیں، جو کبھی بہار کے مظفر پور کے اسلام پور لہتھی بازار کی پہچان تھیں، اب مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔ ہندوستان بھر میں اپنی روایتی لہتھی یا لاکھ چوڑیوں کے لیے مشہور یہ تقریباً ۹۰؍ سال پرانا بازار اس وقت دہائیوں کے بدترین کاروباری بحران سے گزر رہا ہے۔ بازار میں ۲۵۰؍ سے زیادہ دکانیں کام کرتی ہیں، جہاں دلہنوں کیلئے روایتی چوڑیوں سے لے کر جدید ’’چارجنگ لہتھی‘‘ تک فروخت کی جاتی ہیں، جو روشنی میں چمکتی ہیں۔ قدرتی لاکھ رال سے تیار کی جانے والی یہ چوڑیاں اپنی مضبوطی، رنگین ڈیزائن اور چمک کی وجہ سے ملک بھر میں مقبول سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن اس سال شادیوں کے سیزن میں بھی بازار کی رونق ماند پڑ گئی ہے۔ تاجروں کے مطابق ایران اور امریکہ اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے، جس سے خام مال کی سپلائی میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : آرایس ایس کا کردار سوالوں کی زد پر، جبکہ تنظیم اپنی شبیہہ بہتر بنانے میں مصروف
بازار کے ایک تاجر محمد مبارک نے بتایا کہ وہ خام مال، جو پہلے وقت پر بیرون ملک سے پہنچ جاتا تھا، اب تاخیر کا شکار ہے۔ اس سے نہ صرف قلت پیدا ہوئی بلکہ قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ان کے مطابق گاہک اب پہلے جیسی خریداری نہیں کر رہے، حالانکہ شادیوں کا موسم جاری ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ لہتھی چوڑیوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے متعدد اہم آرائشی سامان، جیسے درآمد شدہ پتھر، چمکدار مواد، پالشنگ کیمیکلز اور آرائشی لوازمات، خلیجی راستوں کے ذریعے ہندوستان پہنچتے ہیں۔ دبئی ان اشیا کی تجارت کا ایک بڑا مرکز ہے، جہاں سے سامان ہندوستانی مارکیٹوں میں بھیجا جاتا ہے۔ کاروباری افراد کے مطابق شپنگ اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث قیمتوں میں تقریباً ۲۵؍ سے ۳۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کا سب سے بڑا اثر روزانہ مزدوری پر انحصار کرنے والے کاریگروں پر پڑا ہے۔
چالیس برس سے اس صنعت سے وابستہ کاریگر محمد لال نے بتایا کہ ’’۲۰۰؍ سے زیادہ کاریگروں نے یا تو اپنا کام کم کر دیا ہے یا مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے۔پہلے شادیوں کے سیزن میں دن رات کام جاری رہتا تھا، لیکن اب آرڈرز نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘‘ خیال رہے کہ لہتھی چوڑیوں کی تیاری ایک محنت طلب روایتی ہنر ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہ عمل جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال کے جنگلات سے حاصل کی جانے والی قدرتی لاکھ رال سے شروع ہوتا ہے۔ لاکھ کو صاف کر کے گرم کیا جاتا ہے تاکہ وہ نرم اور لچکدار بن جائے۔ اس کے بعد اس میں رنگ شامل کیے جاتے ہیں اور لوہے کے سانچوں کی مدد سے چوڑیوں کی شکل دی جاتی ہے۔
بعد میں ان چوڑیوں پر ہاتھ سے پتھر، موتی، آئینے اور چمکدار آرائش لگائی جاتی ہے، جبکہ پالشنگ کیمیکلز کے ذریعے انہیں چمک اور مضبوطی دی جاتی ہے۔ تاجروں کے مطابق ان میں استعمال ہونے والا بڑا حصہ خلیجی ممالک اور چین سے درآمد کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر ڈیزائنر سامان جے پور اور کولکاتا کی ہول سیل مارکیٹوں سے آتا ہے۔ بازار کے ایک اور تاجر محمد فیروز نے کہا کہ ’’شادیوں کا سیزن شروع ہونے کے باوجود گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنگ نے کاروبار کو براہ راست متاثر کیا ہے، خام مال مہنگا ہو چکا ہے اور کاریگر شدید دباؤ میں ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : ناسک :۲۵؍بوری پیازبیچنے پربھی غریب کسان کومنافع نہیں ملا
تاجروں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل شادیوں کے سیزن میں لہتھی بازار میں ۱۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار ہوتا تھا۔ یہاں تیار ہونے والی چوڑیاں امریکہ سمیت کئی ممالک کو برآمد بھی کی جاتی تھیں، لیکن اس سال بین الاقوامی آرڈرز میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ کاروباری بحران کے ساتھ ساتھ یہ صورتحال ایک ثقافتی روایت کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ بہار اور شمالی ہندوستان میں لہتھی چوڑیاں دلہن کے زیورات کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں اور ان کے بغیر شادی کی رسومات ادھوری مانی جاتی ہیں۔ اب مظفر پور کے تاجر امید لگائے بیٹھے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوگی، سپلائی چین دوبارہ بحال ہوگی اور اسلام پور لہتھی بازار کی گلیوں میں ایک بار پھر چوڑیوں کی وہی پرانی رونق اور آوازیں لوٹ آئیں گی۔