معروف گلوکارہ کو وزیراعلیٰ دیویندرفرنویس، نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور سونیترا پوار ، ادھوٹھاکرے، راج ٹھاکرے، شردپوار اورورشا گائیکواڑ نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 10:51 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
معروف گلوکارہ کو وزیراعلیٰ دیویندرفرنویس، نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور سونیترا پوار ، ادھوٹھاکرے، راج ٹھاکرے، شردپوار اورورشا گائیکواڑ نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
معروف گلوکارہ آشا بھوسلے کا۹۲؍ سال کی عمر میں انتقال ہونے پر ریاست کے وزراء اور سیاستدانوں نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
’’منگیشکر خاندان کا ایک اور ستارہ ٹوٹ گیا‘‘
وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس نے انسٹاگرام پر پوسٹ کیاکہ ’’پدم وبھوشن اور مہاراشٹر بھوشن ایوارڈ یافتہ گلوکارہ آشاتائی بھوسلے کے انتقال کی خبر دردناک ہے۔ صرف تین سال قبل انہوں نے اپنی۹۰؍ویں سالگرہ بڑے دھوم دھام سے منائی تھی۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی لتا دیدی کے بعد منگیشکر خاندان کا ایک اور ستارہ ٹوٹ گیا ہے۔ سُروں کا وہ خوبصورت چمن آج ویران ہوگیا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید لکھاکہ ’’آشاتائی کی آواز موسیقی کی روح تھی۔ انہوں نے مزید لکھاکہ ’’ حال ہی میں جب ہم عالمی ریڈیو ڈے کی تقریب میں اکٹھے تھے، انہوں نے اصرار کیا کہ میں ان کیلئے گانا ’ابھی نہ جاؤ چھوڑکر..‘ گاؤں اور مذاقاً کہا تھا کہ دیکھو، میں نے چیف منسٹر سےاپنے لئے گانا گوا لیا۔ ہم ان کے خاندان اور ملک بھر میں ان کے بے شمار مداحوں کے ساتھ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ‘‘
’’چار نسلوں کے دلوں کو چھونے والی آواز خاموش ہو گئی‘‘
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے شندے نے آشا بھوسلے کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’’ملکۂ نغمہ‘‘ اور ایک ایسی’’قدرتی آواز‘‘قرار دیا جو نسل در نسل لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے انتقال سے وہ آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی جس نے چار نسلوں کے دلوں کو مسحور کیا اور سنیما کی خوبصورتی کو ہر گھر تک پہنچایا۔
ایکناتھ شندے شندے نے آشا بھوسلے کا انتقال ایک ایسا نقصان ہے جسے ذاتی طور پر بھی محسوس کیا جا رہا ہے اور اسے قبول کرنا مشکل ہے کہ وہ اب ہمارے درمیان موجود نہیں رہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا موسیقی ورثہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور ان کے لازوال گیت انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انہیں آشا بھوسلے سے کئی بار ملاقات کا موقع ملا جو ان کیلئے ناقابلِ فراموش لمحات ہیں اور ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہیں گے۔
’’ یہ ایک سنہرے دور کا خاتمہ ہے‘‘
نائب وزیر اعلیٰ سونیترا اجیت پوار نے آشا بھوسلے کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وفات بھارتی موسیقی کے ایک سنہرے باب کے اختتام کے مترادف ہے اور ایک ایسے دور کا خاتمہ ہے جو لازوال نغموں سے عبارت تھا۔ سونیترا پوار نے اپنے تعزیتی پیغام میں آشا بھوسلے کو ’’ملکۂ نغمہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز میں مٹھاس، ہمہ جہتی اور جذباتی گہرائی کا ایک منفرد امتزاج تھا۔ انہوں نے کہا کہ آشا بھوسلے نے ہندی اور مراٹھی سمیت مختلف زبانوں میں ہزاروں گیت گا کر کئی نسلوں کے سامعین کو مسحور کیا اور اپنی ایک ناقابلِ فراموش پہچان قائم کی۔ ان کا انتقال بھارتی موسیقی کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ آخر میں انہوں نے آشا بھوسلے کے اہلِ خانہ اور کروڑوں مداحوں کیلئے صبر و ہمت کی دعا کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
’’آج ہندوستانی موسیقی کا ایک ستون گر گیا ‘‘
سابق وزیر اعلیٰ اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آشا بھوسلے کے انتقال کی خبر سن کر مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ آج ہندوستانی موسیقی کا یہ ستون گر گیا ۔ ان کی یاد کو ایک عاجزانہ خراج عقیدت۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’لتا دیدی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ موسیقی کے شاندار میدان میں ایک مضبوط ستون کے طور پر کھڑی رہیں۔ ‘‘
’’ہندوستانی موسیقی کے نشاۃ ثانیہ کا آخری مضبوط ستون بھی ختم ہو گیا‘‘
مہاراشٹر نونرمان سینا(ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے منفرد اور گہرے فلسفیانہ انداز میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں فلمی موسیقی کی تاریخ کا ایک لازوال ستون قرار دیا۔ راج ٹھاکرے نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے کئی مواقع پر، حتیٰ کہ خود آشا تائی سے گفتگو کے دوران بھی لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے کو ہندوستانی فلمی موسیقی کا ’لیونارڈو دا ونچی اور مائیکل اینجلو‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لیونارڈو دا ونچی کے فن میں سکون اور روحانیت کی جھلک نظر آتی ہے جو لتا منگیشکر کی آواز میں محسوس ہوتی تھی جبکہ مائیکل اینجلو کے فن میں حرکت، شوخی، جرأت اور بغاوت کا عنصر ہوتا ہے جو آشا بھوسلے کی گائیکی میں نمایاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھی بھکتی گیتوں میں وہ روحانیت کا ایسا رنگ پیش کرتی ہیں جو سننے والوں کو ایک الگ دنیا میں لے جاتا ہے۔ چند سال پہلے لتا منگیشکر ہم سے جدا ہوئیں اور آج آشا بھوسلے بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں جس کے ساتھ ہی ہندوستانی موسیقی کے نشاۃ ثانیہ کا آخری مضبوط ستون بھی ختم ہو گیا۔
’’ہندوستانی موسیقی کی دنیا نے ایک لازوال آواز کھو دی‘‘
این سی پی (شرد) کے قومی صدر شرد پوار نے آشا بھوسلے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستانی موسیقی کی دنیا نے آشاتائی کی شکل میں ایک لازوال آواز کھو دی ہے۔ ان کے انتقال سے موسیقی کے سنہری دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
’’موسیقی کا درخشاں ستارہ غائب ہوگیا‘‘
ممبئی کانگریس کی صدر رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ نے نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’ آشا تائی کے انتقال سے ہندوستانی موسیقی کی دنیا کا ایک درخشاں ستارہ غائب ہو گیا اور گلوکاری کا جادو ختم ہو گیا۔ ‘‘