Inquilab Logo Happiest Places to Work

اشوک کھرات کو قتل کرکے خود کشی کا نام دیا جا سکتا ہے : روہت پوار کا دعویٰ

Updated: March 31, 2026, 10:59 PM IST | Mumbai

رکن اسمبلی نے الزام لگایا کہ کھرات کے پاس کئی اہم لیڈران کی معلومات ہے جس کے افشاں ہونے کے خوف سے اس کی جان لی جا سکتی ہے

Rohit Pawar once again tried to surround the Mahayoti government
روہت پوار نے پھر ایک بار مہایوتی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی

این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ فریبی بابا اشوک کھرات کو پولیس حراست میں ختم کرنے کی سازش کی جا سکتی ہے اور اسے خودکشی یا کسی اور واقعے کی شکل دی جا سکتی ہے، جسکے بعد کھرات کی سلامتی پر خدشات ظاہر کئےجا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اشوک کھرات کے پاس کئی بااثر افراد سے متعلق حساس معلومات موجود ہیں اور اس کے روابط اعلیٰ سطح تک پہنچتے ہیں، اسی وجہ سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ 
 یاد رہے کہ اشوک کھرات کے خلاف ناسک پولیس کی جانب سے کل ۱۰؍ مقدمات درج ہیں، جن میں ۸؍ جنسی استحصال اور ۲؍ مالی بے ضابطگی  سے متعلق ہیں۔ اشوک کھرات سے مبینہ روابط کے باعث این سی پی  لیڈر روپالی چاکنکر کو پہلے ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اور بعد ازاں پارٹی کے خواتین ونگ کی ریاستی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، اور اب ان کے خلاف ایس آئی ٹی جانچ متوقع ہے۔ اسکے علاوہ سنیل تٹکرے اور دیپک کیسرکر جیسے دیگر سرکردہ رہنماؤں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جس سے ان کے خلاف بھی جانچ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 
 روہت پوار نے کہا کہ ایک طرف ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ کھرات کو، جو کئی بڑے رہنماؤں کے بارے میں معلومات رکھتا ہے، خودکشی ظاہر کر کے ختم کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب وی کے سنگھ کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس اجیت دادا کے حادثے سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔
  انہوں نے کہا کہ قصورواروں کو قانونی طور پر سزا دینا ضروری ہے، لیکن سچ کو دبانے کیلئے کسی کی جان لینا یا کسی کو بچانا درست نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی سیاسی حکمت عملیوں کو مہاراشٹر کے عوام قبول نہیں کریں گے اور اس سے نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سچ کو چھپانے کی اتنی کوشش کیوں کی جا رہی ہے، اور کہا کہ چاہے کتنی ہی کوشش کی جائے، سچ کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا اور وہ آخرکار سامنے آ ہی جاتا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK