Inquilab Logo Happiest Places to Work

الامین جمال نے اسپین بمقابلہ مصر میچ کے دوران اسلام مخالف نعروں کی مذمت کی

Updated: April 01, 2026, 10:13 PM IST | Barcelona

اسپین کے سپر اسٹار الامین جمال نے اسپین بمقابلہ مصر میچ کے دوران اسلام مخالف نعروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا بطور مسلمان، یہ توہین آمیز اور مکمل طور پر ناقابل برداشت ہے۔

Spanish superstar Lamine Yamal. Photo: X
ہسپانوی سپر اسٹارالامین جمال۔ تصویر: ایکس

ہسپانوی سپر اسٹارالامین جمال  نے منگل کو اسپین میں مصر کے خلاف کھیلے گئے دوستانہ میچ کے دوران اسلام مخالف اور زینو فوبک (غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی) نعروں کی شدید مذمت کی۔بارسلونا کے قریب آر سی ڈی ای اسٹیڈیم میں، جو لا لیگا کلب ایسپینیول کا گھریلو میدان  ہے، اسپین کے حامیوں نے ورلڈ کپ کے مشقی میچ کے دوران جوبنا گول کے ڈرا پر ختم ہوا، یہ نعرہ لگایا،’’جو چھلانگ نہیں لگاتا وہ مسلمان ہے۔‘‘جمال نے انسٹاگرام پر ہسپانوی زبان میں ایک پوسٹ کی جس کے آغاز میں لکھا،’’میں مسلمان ہوں الحمداللہ۔ کل اسٹیڈیم میں یہ نعرہ سنا جا سکتا تھا:جو چھلانگ نہیں لگاتا وہ مسلمان ہے۔میں جانتا ہوں کہ یہ مخالف ٹیم کے لیے تھا اور یہ میری ذات کے خلاف کوئی حملہ نہیں تھا، تاہم، بطور مسلمان، یہ میرے لیے توہین آمیز اور مکمل طور پر ناقابل برداشت ہے۔‘‘ جمال نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کا مذاق اڑانے کے لیے مذہب کا استعمال جاہلانہ ہے۔ ‘‘میں سمجھتا ہوں کہ تمام شائقین ایسے نہیں ہیں، لیکن ان لوگوں کے لیے جو ایسے نعرے لگاتے ہیں: میدان میں مذہب کو تمسخر کا ذریعہ بنانا آپ کو جاہل اور نسل پرست افراد کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ فٹ بال ، لطف اندوز ہونے اور حوصلہ افزائی کے لیے ہے، نہ کہ لوگوں کی شناخت یا ان کے عقائد کی بے عزتی کرنے کے لیے۔ اس کے ساتھ، ان سب کا شکریہ جو ہماری حوصلہ افزائی کرنے آئے۔ ورلڈ کپ میں آپ سے ملاقات ہوگی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور اسرائیل عالمی نظام پر اپنا حکم نہیں چلا سکتے: اسپین کی وزیر دفاع

بعد ازاں کیٹالونیا کی علاقائی پولیس فورس، موسوس ڈی ایسکواڈرا، ان نعروں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ گارجین کے مطابق، ان نعروں کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے، جس میں اسپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوینٹے اور اسپین کے وزیر انصاف فیلکس بولانوس شامل ہیں۔بولانوس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’نسل پرستانہ توہین اور نعرے ہمیں بطور معاشرہ شرمندہ کرتے ہیں۔ انتہائی دائیں بازو اپنی نفرت کے لیے کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑے گا، اور جو آج خاموش رہیں گے وہ شریکِ جرم ہوں گے۔‘‘ڈی لا فوینٹے نے کہا، ’’میں کسی بھی زینو فوبک یا نسل پرستانہ رویے سے مکمل اور قطعی بیزاری محسوس کرتا ہوں۔ یہ ناقابل برداشت ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ اسپین مصر کی میزبانی کر رہا تھا، اس سے قبل کہ یہ خطہ مغربی ایشیا کی جنگ سے متاثر ہوا،یہ  میچ قطر میں کھیلا جانا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK