Updated: April 01, 2026, 10:14 PM IST
| New Delhi
اپنے سوالات کو اس طرح رد کئے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے برٹاس نے دلیل دی کہ ایسی معلومات کو روکنا پارلیمانی جواب دہی کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”جب شفافیت خود ’خفیہ‘ بن جائے تو جواب دہی سب سے پہلے قربان ہوتی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی ریگولیٹری ڈیٹا بھی پارلیمانی اراکین سے چھپایا جا رہا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ جان برٹاس نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ فارین کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے) سے متعلق سوالات کو پارلیمنٹ میں بار بار روک رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معمول کے سوالات کو ”نوعیت کے اعتبار سے خفیہ“ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں برٹاس نے کہا کہ انہوں نے ۲۰۲۴ء سے اب تک ۸ مرتبہ ایف سی آر اے سے متعلق فیصلوں کی تفصیلات طلب کرنے کیلئے سوالات جمع کرائے اور ایف سی آر اے لائسنسوں کی معطلی، ان کی منسوخی، ان کی تجدید نہ ہونا اور نئے رجسٹریشن جیسے موضوعات کو اُٹھایا۔ انہوں نے ایف سی آر اے پورٹل سے این جی او کے عوامی ڈیٹا کو ہٹانے کے بارے میں بھی معلومات مانگی۔ تاہم، راجیہ سبھا میں انہیں ان میں سے کوئی بھی سوال پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
برٹاس کے مطابق، ان سوالات کو قانون ۴۷(۲)(۲۲) کے تحت مسترد کر دیا گیا اور حکام نے معلومات کو حساس قرار دیا۔ بجٹ سیشن کے دوران ۱۱ مارچ ۲۰۲۶ء کیلئے درج ان کا تازہ ترین سوال، این جی او ڈیٹا تک عوامی رسائی ختم کرنے کے بارے میں خدشات پر مبنی تھا، لیکن اسے بھی بغیر کسی عوامی وجہ کے مسترد کر دیا گیا۔ اپنے سوالات کو اس طرح رد کئے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے برٹاس نے دلیل دی کہ ایسی معلومات کو روکنا پارلیمانی جواب دہی کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”جب شفافیت خود ’خفیہ‘ بن جائے تو جواب دہی سب سے پہلے قربان ہوتی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی ریگولیٹری ڈیٹا بھی پارلیمانی اراکین سے چھپایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کسانوں کے احتجاج پر سرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور،ٹکیت کی رہائی
مجوزہ ’فارین کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل ۲۰۲۶ء‘ کیا ہے؟
یہ تنازع مجوزہ ’فارین کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل ۲۰۲۶ء‘ پر بحث کے دوران سامنے آیا۔ اس بل کا مقصد غیر منافع بخش تنظیموں کو ملنے والی غیر ملکی فنڈنگ کی نگرانی کو مزید سخت کرنا ہے۔ ناقدین نے اس بل کی ان دفعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو حکومت کو این جی او کے اثاثوں پر قبضہ کرنے کی اجازت دیتی ہیں اگر ان کی ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ ہو جائے یا ختم ہو جائے۔
بل پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے نے کہا کہ ترامیم کا مقصد موجودہ قانون میں ”آپریشنل اور قانونی خلا“ کو پر کرنا ہے۔ انہوں نے بیان دیا کہ غیر ملکی فنڈز کے غلط استعمال، جیسے جبری مذہبی تبدیلیوں یا قومی مفاد کے خلاف سمجھی جانے والی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے سخت دفعات ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نجی رہائش گاہ میں عبادت کیلئے پیشگی اجازت ضروری نہیں: چھتیس گڑھ ہائی کورٹ
مجوزہ تبدیلیوں کے تحت، رجسٹریشن کی منسوخی یا معطلی کی صورت میں غیر ملکی عطیات سے بنائے گئے اثاثے حکومت کے مقرر کردہ اتھارٹی کو منتقل کئے جا سکتے ہیں۔ اس اتھارٹی کے پاس عوامی مقاصد کیلئے ایسے اثاثوں کے انتظام یا انہیں ٹھکانے لگانے کے اختیارات ہوگے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ۱۷-۲۰۱۶ء اور ۲۲-۲۰۲۱ء کے درمیان ۶۶۰۰ سے زیادہ این جی او ادارے اپنے ایف سی آر اے لائسنس سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ ۱۳۵۰۰ سے زیادہ تنظیموں نے ۲۰-۲۰۱۹ء اور ۲۲-۲۰۲۱ء کے درمیان ۵۵ ہزار ۷۴۱ کروڑ روپے کی غیر ملکی فنڈنگ حاصل کی۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے خبردار کیا کہ یہ ترامیم سول سوسائٹی کی تنظیموں پر ریاستی کنٹرول کو بڑھا سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر ایک غیر مساوی ریگولیٹری ماحول پیدا کر سکتی ہیں۔