Updated: April 01, 2026, 10:14 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ پروڈیوسر ویویک واسوانی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سلمان خان کے ساتھ دوبارہ کام کیوں نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے انہیں ۱۹۹۱ء کی فلم ’’پتھر کے پھول‘‘ سے لانچ کیا تھا۔ ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کیلئے کام کا ماحول اور نظم و ضبط انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ سلمان خان کی شخصیت نہیں بلکہ پیشہ ورانہ مستقل مزاجی کا ہے، اور اگر انہیں ایک ڈسپلنڈ سلمان خان ملے تو وہ مستقبل میں دوبارہ ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔
ویویک واسوانی۔ تصویر: ایکس
بالی ووڈ میں ایک نئی بحث اس وقت شروع ہوئی جب معروف پروڈیوسر ویویک واسوانی نے اداکار سلمان خان کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ تعلقات پر کھل کر بات کی۔ حالیہ دنوں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آخر کیوں وہ ماضی میں کامیاب تعاون کے باوجود دوبارہ سلمان خان کے ساتھ کام نہیں کر سکے۔ ویویک واسوانی نے واضح کیا کہ ان کے فیصلے کی بنیادی وجہ کام کے ماحول سے متعلق ان کی ترجیحات ہیں۔ ان کے مطابق، وہ ایسے سیٹ اپ میں کام نہیں کر سکتے جہاں نظم و ضبط کی کمی ہو یا غیر پیشہ ورانہ رویہ پایا جائے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ایسے ماحول میں کام نہیں کر سکتا جہاں شراب نوشی ہو یا لوگ غیر ذمہ داری کے ساتھ کام کریں۔ میرے لئے ڈسپلن بہت اہم ہے، اور میں اسی ماحول میں بہترین کام کر سکتا ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سلمان خان نئی فلم بغیر فیس کے کریں گے، منافع شیئرنگ ماڈل اپنانے کی خبریں
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے سلمان خان کو بعض بڑے ہدایتکاروں کے ساتھ کام کرتے دیکھا، جیسے سنجے لیلا بھنسالی اور سورج بڑجاتیہ، تو وہ ایک بالکل مختلف، زیادہ نظم و ضبط کے پابند اور پیشہ ور اداکار کے طور پر سامنے آئے۔ واسوانی کے مطابق، ’’اگر مجھے وہ سلمان خان ملے جو ان فلمسازوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، تو میں یقیناً ان کے ساتھ دوبارہ کام کرنا چاہوں گا۔ وہ اس وقت ایک بہترین پیشہ ور ثابت ہوتے ہیں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘ واسوانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے خدشات ذاتی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ نوعیت کے ہیں۔ ان کے مطابق، کچھ پروڈیوسرز صرف سلمان خان کے اسٹار پاور پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ بڑے بینرز انہیں ایک اداکار کے طور پر اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’انہیں سلمان دی اسٹار کی نہیں بلکہ سلمان اداکار کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب مجھے وہ اداکار ملے گا تو میں ان کے ساتھ کام کروں گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’راجہ شیواجی‘‘ کا پہلا ٹیزر جاری، رتیش دیشمکھ کی فلم پر ملا جلا ردعمل
وقت کی پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’اگر کسی فلم کی شفٹ صبح ۹؍ بجے شروع ہوتی ہے تو کسی کا شام ۴؍ بجے آنا قابل قبول نہیں۔ اگر آپ کو کچھ تبدیلی کرنی ہے تو پہلے آئیں، ڈائریکٹر کے ساتھ بیٹھیں اور بات کریں۔ یہی پیشہ ورانہ طریقہ ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے ماضی کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ۱۹۹۱ء کی فلم ’’پتھر کے پھول‘‘ کے دوران صورتحال مختلف تھی۔ اس وقت سلیم خان، جو سلمان خان کے والد اور فلم کے مصنف تھے، اسکرپٹ پر قریبی نظر رکھے ہوئے تھے۔ واسوانی کے مطابق، ’’اس وقت سلمان زیادہ تبدیلیاں نہیں کر سکتے تھے کیونکہ سلیم خان خود موجود تھے اور اسکرپٹ کو کنٹرول کر رہے تھے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بعد کے برسوں میں جب سلمان خان ایک بڑے اسٹار بنے اور متعدد فلمیں سائن کیں تو تاریخوں کے مسائل اور دیگر پیشہ ورانہ چیلنجز سامنے آئے، تاہم انہوں نے انہیں ’’معمولی اختلافات‘‘ قرار دیا۔ اگرچہ ان بیانات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، لیکن ویویک واسوانی نے یہ واضح کر دیا کہ وہ مستقبل میں سلمان خان کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔ ان کے مطابق، اگر کام کا ماحول ان کے معیار کے مطابق ہوا تو یہ تعاون دوبارہ ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دھرندھر ۲: کہانی چوری کا الزام، سیاسی پروپیگنڈہ بنادیا گیا: مصنف کا دعویٰ
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو فلم ’’پتھر کے پھول‘‘ سلمان خان کے کیریئر کی ابتدائی اہم فلموں میں شمار ہوتی ہے، جس نے انہیں انڈسٹری میں پہچان دلائی۔ آج وہ بالی ووڈ کے سب سے بڑے ستاروں میں شامل ہیں، لیکن اس تازہ بیان نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ فلمی صنعت میں کامیابی کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی اہمیت کتنی ضروری ہے۔