اشرف غنی کی بے حسی اور افغان حکام کی بدعنوانی کی وجہ سے طالبان کی جیت ہوئی

Updated: November 05, 2021, 12:01 PM IST | Agency | Washington

امریکہ کے سابق نمائندۂ خصوصی برائے افغان امور زلمے خلیل زاد کے مطابق اشرف غنی نے جعلی الیکشن کے ذریعے صدارت حاصل کی تھی

 Zalmai Khalilzad (sitting left) was instrumental in negotiating with the Taliban.Picture:INN
زلمے خلیل زاد ( بائیں بیٹھے ہوئے) نے طالبان سے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا تصویر: آئی این این

امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ  مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے زلمے خلیل زاد نے الزام لگایا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی `بے حسی اور، افغان حکام کی `مطلب پرستی کے علاوہ افغان فوجیوں کی کوتاہی  کے سبب طالبان کو ملک پر قبضہ جمانے کا موقع ملا۔خلیل زاد نے یہ بات  بدھ کو واشنگٹن میں `کارنیگی انڈومینٹ فار انٹرنیشنل پیس کے تحت منعقدہ ایک مباحثے کے دوران کہی ۔ انھوں نے کہا کہ `’’ہم سب حیران تھے کہ صدر غنی اس بات پر اڑے رہے کہ عہدے کی مدت پوری ہونے تک وہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے دوبارہ منتخب ہوئے تھے، جس میں چند افغانوں نے شرکت کی تھی۔انھوں نے پہلی بار یہ بات تسلیم کی کہ امریکہ اس بات کے حق میں نہیں تھا کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات ہوں جن میں غنی جیت کر دوبارہ عہدہ سنبھالیں ۔  برعکس اس کے، خلیل زاد نے کہا کہ امریکہ اس بات کا خواہاں تھا کہ ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے جسے دونوں فریق تسلیم کریں ایسے میں جب تک افغان سیاست داں اور متمدن معاشرے کے ارکان طالبان کے ساتھ کسی سیاسی تصفیہ تک پہنچیں۔خلیل زاد نے کہا کہ غنی نے سب سے بڑا غلط اندازہ یہ لگایا تھا کہ خطے سے امریکی انخلا ممکن نہیں ہو گا، چونکہ امریکی افواج اور اس کے خفیہ ادارے چین، روس، ایران اور پاکستان جیسے حکمت عملی کے حامل ملکوں کے نزدیگ رہنا چاہیں گے۔ خلیل زاد کے بقول، `میں نے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ صدر ٹرمپ اس معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ تو انھوں نے کہا کہ `’’نہیں! مجھے تو انٹیلی جنس اور فوج نے کچھ اور ہی بتایا ہے۔بقول ان کے، غنی نے اپنی فوج کے لڑنے کی قوت سے متعلق بھی غلط اندازہ لگایا تھا۔ جب امریکہ نے انخلا کا فیصلہ کیا تو انھوں نےبتایا کہ اب میں افغان طریقے سے جنگ لڑنے کے معاملے میں آزاد ہوں۔ میں چھ مہینے کے اندر طالبان کو شکست دے دوں گا، چونکہ آپ لڑائی میں کمزوری دکھا رہے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی تربیت یافتہ اور اسلحے سے لیس ۳؍ لاکھ سے زائد افغان سیکوریٹی افواج اور قومی پولیس محض ۶۰؍ ہزار  طالبان کے سامنے کھڑی نہ ہو سکیں، خلیل زاد نے کہا کہ اس کی وجہ کم ہمتی، بدعنوانی اور اگلے محاذ پر تعینات فوجیوں کے ساتھ غلط سلوک روا رکھنا تھی۔انھوں نے کہا کہ اس کا سبب زیادہ تر افغانستان کا مخصوص سیاسی انداز تھا، جس پر لوگوں کو بھروسہ نہیں تھا، نہ ہی فوج کو؛ جب کہ دوسری جانب طالبان اپنی دھن کے پکے تھے۔خلیل زاد نے افسوس کا اظہار کیا کہ افغان حکام کا رویہ `خود غرضانہ، مطلبی اور بدعنوان ہو چکا تھا، یہی سبب ہے کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات مسلسل ناکام ہوتے رہے۔ بقول ان کے،مجھے مایوسی ہے کہ جن حکام کے ساتھ ہم رابطے میں رہے، انھوں نے وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کوتاہی برتی۔ یہ ایک سنہری موقع تھا جو امریکہ کی جانب سے کی جانے والی بات چیت کی وجہ سے میسر آیا تھا۔ واضح رہے کہ اشرف غنی کو ۲۰۱۹ء کے الیکشن میں جیت کا اعلان ہونے کے باوجود امریکہ نے حلف براداری سے روک دیا تھا ۔ بعد میں انکے مسلسل اصرار پر انہیں  عہدے پر فائز ہونےکا موقع دیا گیا۔  اس کے  بعد کئی معاملوں میں امریکہ کو اشرف غنی پر انحصار کرنا پڑا۔ انہوں نے ہی امریکہ سے کہا تھا کہ افغان فوج طالبان سے سخت مقابلہ کرے گی مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہو سکا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK