• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد ایشیا میں تیل اور گیس کے ذخائر اپنے قریب رکھنے کی دوڑ

Updated: September 03, 2026, 7:01 PM IST | New York

ایشیا کو چھ ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد شدید ترین معاشی نقصانات میں سے بعض کا سامنا کرنا پڑا۔ خطہ خلیج فارس سے آنے والے تیل اور گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جو معمول کے حالات میں آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، تاہم ایرانی حملوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

Strait Of Hormuz.Photo:INN
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این

ایشیا کو چھ ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد شدید ترین معاشی نقصانات میں سے بعض کا سامنا کرنا پڑا۔ خطہ خلیج فارس سے آنے والے تیل اور گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جو معمول کے حالات میں آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، تاہم ایرانی حملوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
ایشیا کے ممالک نے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد فوری طور پر ایندھن کے تحفظ کے اقدامات نافذ کیے، جن میں قیمتوں کی حد مقرر کرنے سے لے کر متبادل دنوں میں گاڑی چلانے اور سرکاری ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کے احکامات تک شامل تھے۔
اس بحران کے بعد کے مہینوں میں ایشیا نے تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ مستقل حل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد اپنی ضرورت کا تیل اور گیس اپنے ملکوں کے زیادہ قریب ذخیرہ کرنا ہے۔ آکسفورڈ انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اسٹڈیز کی وزٹنگ ریسرچ فیلو پارول بخشی نے کہا’’اس بحران سے دو بالکل مختلف نوعیت کی سرمایہ کاری سامنے آ رہی ہے: ایک ایسی بنیادی ڈھانچے میں جو جغرافیائی سیاسی خطرات کو نظرانداز کر سکے اور دوسری ایسے بنیادی ڈھانچے میں جو درآمدی ایندھن پر انحصار ہی ختم کر دے۔  اس بحران کے نتیجے میں سامنے آنے والی سب سے اہم تجاویز میں سے ایک جاپان کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بابر اعظم اور برطانیہ کے کنگ چارلس کی دلچسپ گفتگو، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

مشرق وسطیٰ سے حاصل ہونے والی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کے باوجود جاپان نے کئی دوسری معیشتوں کے مقابلے میں اس بحران کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا، کیونکہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تزویراتی تیل کے ذخائر میں سے ایک موجود ہے۔ٹوکیو چاہتا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے اس کے پڑوسی ممالک بھی اسی راستے پر چلیں۔
اپریل میں جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے ۱۰؍ ارب ڈالر کے پاور ایشیا اقدام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جنوب مشرقی ایشیائی معیشتوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات حاصل کرنے میں مدد دینا اور طویل مدت میں تزویراتی ذخائر میں اضافہ کرنا ہے۔ فروری کے اواخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے وقت ویتنام کے قومی ذخائر میں ملک کی صرف پانچ سے سات دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تیل موجود تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق تجارتی ذخائر اور دیگر ذرائع نے مزید ۶۵؍ دن تک رسد برقرار رکھنے میں مدد دی۔
تھائی لینڈ کے پاس مارچ کے اوائل میں سرکاری اور نجی شعبوں کو ملا کر تقریباً ۶۱؍ دن کے ذخائر موجود تھے، جبکہ لازمی کم از کم ذخیرہ ۲۵؍ دن کا تھا۔ فلپائن کے نجی تجارتی ذخائر میں تقریباً ۵۰؍ سے ۶۰؍ دن کی رسد موجود ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔یہ تمام اعداد و شمار بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مقرر کردہ ۹۰؍ دن کے کم از کم معیار سے کم تھے۔
بینکاک اور منیلا میں جنگ نے ریاستی سطح پر جامع تزویراتی تیل کے ذخائر قائم کرنے کی کوششوں کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔ گزشتہ ماہ فلپائن کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے ایک ایسے بل کی منظوری دی جس کے تحت حکومت کے زیر انتظام ۶۰؍ دن کا تیل ذخیرہ قائم کیا جائے گا۔تھائی حکام نئے جزیرہ نما پار خام تیل کی پائپ لائنوں اور اسٹوریج ٹینک فارمز  کے منصوبوں پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ بینکاک میں قائم پبلک افیئرز کنسلٹنسی ماورک کنسلٹنگ گروپ کے بین کیٹ کوانکول کے مطابق، ان منصوبوں سے تھائی لینڈ خلیجی خام تیل کے ذخیرے کے معاملے میں سنگاپور کے مقابلے میں ایک مضبوط مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھی جنگ نے ہندوستان کو اپنے تزویراتی تیل ذخائر کی پالیسی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یہ بھی پڑھئے:میری ناکامیوں نے والدین کو بے بس کر دیا تھا: میگھنا گلزار

ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق مئی تک ہندوستان کے پاس تقریباً ۷۴؍دن کی ضروریات کے برابر تیل کے ذخائر موجود تھے، جن میں سے ۹۰؍ فیصد سے زیادہ سرکاری ملکیت والے اداروں کے پاس تھے۔ جولائی میں سرکاری ملکیت والی آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی) نے اعلان کیا کہ وہ ملک کے جنوبی حصے میں ۷۵ء۱؍ ملین میٹرک ٹن، یعنی تقریباً ۱۳؍ ملین بیرل، کا نیا ذخیرہ قائم کرے گی۔ اس کے علاوہ کمپنی پہلے سے موجود ذخائر میں ۵ء۶؍ ملین میٹرک ٹن اضافے کے منصوبے بھی رکھتی ہے۔دریں اثنا ایشیا کی بڑی معیشتیں خلیجی تیل فراہم کرنے والے ممالک کے ساتھ براہِ راست ذخیرہ کرنے کے معاہدوں کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہیں۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کی سینئر فیلو برائے آب و ہوا و توانائی کلارا گلسپی نے کہاکہ جاپان، جنوبی کوریا اور سنگاپور کے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کے ساتھ طویل عرصے سے تعلقات اور شراکت داریاں ہیں تاکہ تیل کے ذخائر ان کے ساحلوں کے قریب رکھے جا سکیں۔  انہوں نے کہاکہ ان تینوں ممالک کے حوالے سے ہمیں موجودہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں توسیع کے ساتھ ساتھ نئے معاہدے کرنے میں بھی دلچسپی سننے کو ملی ہے۔  گلسپی کے مطابق، ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے سے متعلق بھی بات چیت ہوئی ہے۔  عوامی پالیسی کے تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق متحدہ عرب امارات اور اس کی سرکاری تیل کمپنی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی) پہلے ہی سنگاپور، ہندوستان، جنوبی کوریا اور جاپان میں تیل ذخیرہ کرتی ہے، جبکہ کویت اور سعودی عرب کے بھی جنوبی کوریا اور جاپان میں تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK