Updated: September 03, 2026, 8:04 PM IST
| New York
امریکی تیل کمپنی شیورون اور متعدد دیگر عالمی توانائی کمپنیوں نے وینزویلا میں تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدوں پر دارالحکومت کراکس میں ایک تقریب کے دوران دستخط ہوئے، جس کی نگرانی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کی۔
خام تیل۔ تصویر:آئی این این
امریکی تیل کمپنی شیورون اور متعدد دیگر عالمی توانائی کمپنیوں نے وینزویلا میں تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدوں پر دارالحکومت کراکس میں ایک تقریب کے دوران دستخط ہوئے، جس کی نگرانی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کی۔ بدھ کو ہونے والے یہ معاہدے حال ہی میں سامنے آنے والے کراکس اور واشنگٹن کے درمیان اس بڑے معاہدے سے الگ ہیں، جس کے تحت امریکہ کو وینزویلا کے ۱۷؍ تیل کے فیلڈ تک رسائی ہوگی۔ یہ میدان ملک کے مجموعی تیل کے ذخائر کے تقریباً پانچویں حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
نئے معاہدوں میں زیادہ تر ان منصوبوں کی توسیع شامل ہے جن پر وینزویلا کی وزارتِ تیل اور سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے ساتھ جنوری سے مذاکرات جاری تھے۔ یہ مذاکرات امریکہ کی جانب سے سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرکے ملک سے لے جانے کے بعد جنوری میں منظور کی گئی وسیع تر تیل اصلاحات کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ معاہدوں پر دستخط کی تقریب کی نگرانی کے لیے کراکس پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا کی جانب سے امریکی کمپنی شیورون، جی ای ورنووا اور اٹلی کی اینی کے ساتھ کیے گئے معاہدے ملک میں امن، مواقع اور خوشحالی کے اس عمل کو شروع کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
رائٹ نے کہا کہ ’’ہم اس رفتار سے کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے میں ٹرمپ اسپیڈ کہتا ہوں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مثبت سمت میں معمولی پیش رفت یا سست رفتار تبدیلی نہیں چاہتے تھے۔ وہ وینزویلا میں جلد از جلد تبدیلی دیکھنا چاہتے تھے۔ نئے معاہدوں کے تحت شیورون اور اینی وینزویلا میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کریں گی اور انہیں تیل کے میدانوں میں زیادہ حصص حاصل ہوں گے۔
امریکہ کی دوسری سب سے بڑی تیل کمپنی اور وینزویلا میں سب سے بڑی نجی تیل پیدا کرنے والی کمپنی شیورون نے اورینوکو بیلٹ میں مزید دو تیل کے میدانوں کی ترقی کے معاہدے کی مالیت ۷؍ ارب ڈالر بتائی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس منصوبے سے حاصل ہونے والی پیداوار پانچ برس میں دوگنا سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔ اٹلی کی اینی نے کہا کہ اسے بڑے جُونین ۵؍ آئل فیلڈ میں تلاش کے خصوصی حقوق حاصل ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بابر اعظم اور برطانیہ کے کنگ چارلس کی دلچسپ گفتگو، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
دوسری جانب امریکی توانائی کمپنی جی ای ورنووا، جو جنرل الیکٹرک سے الگ ہوکر قائم ہوئی ہے، وینزویلا کے شدید متاثرہ بجلی کے نظام کی مرمت میں مدد کرے گی۔یہ تقریب ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بڑے کراکس-واشنگٹن معاہدے کے بعد وینزویلا کی خودمختاری کے حوالے سے سوالات بڑھ رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کی قیادت میں کام کرنے والی ایک کمپنی کو ملک کے ۱۷؍ تیل کے میدانوں میں ۱۰۰؍سالہ رعایتیں دی گئی ہیں۔
امریکہ اور وینزویلا دونوں میں ناقدین نے صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مادورو کو ایک کارروائی میں گرفتار کرکے ملک سے لے جانے اور روڈریگیز کو بھی اسی طرح کے انجام کی دھمکی دے کر وینزویلا کو دباؤ میں رکھ رہے ہیں، اگر وہ واشنگٹن کے مطالبات کے مطابق عمل نہ کریں۔تاہم کرس رائٹ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ وینزویلا کا تیل نہیں چرا رہا۔ انہوں نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم صرف ایک ایسے زیرِ زمین اثاثے کو، جو بے کار پڑا ہے اور وینزویلا کے عوام کے لیے کچھ نہیں کر رہا، فعال بنا رہے ہیں اور اسے ترقی دینے کے لیے سرمایہ اور ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں۔رائٹ نے مزید کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر رکھنے والے وینزویلا میں تیل کی مجموعی پیداوار رواں دہائی کے اختتام تک یومیہ ۲۰؍ لاکھ بیرل تک پہنچ جائے گی، جو اس وقت ۱۲؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار بیرل یومیہ ہے۔ تاہم یہ پیداوار۱۹۹۰ء کی دہائی کے اواخر میں وینزویلا کی ۳۰؍ لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ کی بلند ترین پیداوار کے مقابلے میں اب بھی خاصی کم ہوگی۔
دوسری جانب ڈیلسی روڈریگیز نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ وہ اپنے ملک کے قدرتی وسائل سے دستبردار ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کو شامل کرنا ضروری ہے تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری یقینی بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ زیادہ تیل کا مطلب زیادہ ملازمتیں، زیادہ اجرتیں، بہتر عوامی خدمات، اسپتال، اسکول اور خوراک ہے۔ روڈریگیز نے اندازہ لگایا ہے کہ اس معاہدے سے وینزویلا کو ۲۵؍برس کے دوران۲۰۹؍ ارب ڈالر منافع حاصل ہوگا۔ اس معاہدے میں مبینہ طور پر فراڈ کے الزامات کا سامنا کرنے والے وینزویلا کے تاجر الیخاندرو بیٹن کورٹ کے اہم کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ وہ بدھ کی تقریب میں نظر نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھئے:میری ناکامیوں نے والدین کو بے بس کر دیا تھا: میگھنا گلزار
بیٹن کورٹ کو سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے میں بدعنوانی کے ایک اسکینڈل سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ وہ نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز (این اے بی ای پی) چلاتے ہیں، جو وینزویلا کی دوسری سب سے بڑی نجی تیل کمپنی ہے۔ معاہدے کے تحت امریکی حکومت اس کمپنی میں۳۵؍ فیصد حصہ حاصل کر رہی ہے۔ اس معاہدے نے خدشات میں بھی اضافہ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سابق صدر مادورو کے وفادار رہنے والے رہنماؤں، جن میں روڈریگیز بھی شامل ہیں، کو اقتدار میں مزید مضبوط کر رہی ہے۔ روڈریگیز نے مادورو کی حکومت کے خاتمے کے آٹھ ماہ بعد بھی جمہوری انتخابات کرانے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کو ریپبلکن پارٹی کے کئی ارکانِ کانگریس کے ان مطالبات کو بھی مسترد کردیا جن میں وینزویلا میں فوری انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ ابھی اس کے لیے تیار ہیں۔ آپ جانتے ہیں، یہ سب بہت نیا ہے۔ ہم نے انہیں آمریت سے نکالا ہے اور ہماری حکومت کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔