Updated: September 03, 2026, 8:33 PM IST
| New York
نیویارک میں مقیم بین المذاہب لیڈر امام شمسی علی نے کہا کہ وہ یوگا انٹرنیشنل یو ایس اے کے منتظمین باوا جین اور دلیپ جی کمار کی دعوت پر شرکت کیلئے گئے تھے، انہیں علم نہیں تھا کہ بھاگوت اس تقریب کے مرکزی مہمان ہوں گے۔ علی نے کہا کہ ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ تقریب موہن بھاگوت کے اعزاز میں منعقد کی گئی ہے تو میں فوری طور پر انکار کر دیتا۔“ انہوں نے بھاگوت کے امن سے متعلق بیانات کو محض ”زبانی جمع خرچ“ قرار دیا۔
گزشتہ سنیچر کو نیویارک میں منعقدہ ایک تقریب میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ساتھ اسٹیج پر موجود دو امریکی مذہبی لیڈران نے کہا ہے کہ انہیں پہلے سے مطلع نہیں کیا گیا تھا کہ اس میں ہندوتوا تنظیم کے لیڈر بھی شرکت کریں گے۔ واضح رہے کہ بھاگوت نے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ”ون ورلڈ ون ہیومینٹی“ کے عنوان سے منعقدہ تقریب کے دوران تقریباً ۵۰۰۰ شرکاء سے خطاب کیا۔
ریور سائیڈ چرچ کی سینئر وزیر ریورنڈ ایڈرین تھورن نے کہا کہ انہیں امن سے متعلق ایک بین المذاہب اجتماع کے طور پر مدعو کیا گیا تھا اور یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ بھاگوت یا آر ایس ایس اس میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ”ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلتوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک میں آر ایس ایس کے کردار کی بڑے پیمانے پر دستاویزی شہادتیں موجود ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو وہ ہرگز شرکت نہ کرتیں۔ تھورن نے الزام لگایا کہ منتظمین نے ”اہم معلومات چھپائیں“ اور وہ خود کو گمراہ محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”میں ہندو برتری کو اسی طرح مسترد کرتی ہوں جس طرح میں عیسائی برتری، مسلم برتری، یہودی برتری، نسل پرستی اور ہر اس نظریے کو مسترد کرتی ہوں جو ایک طبقے کو دوسرے پر فوقیت دیتا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: بھاگوت کی تقریرکے بعد۹۰؍ امریکی سیاستدانوں کا آرایس ایس سے فنڈنگ نہ لینے کا عہد
نیویارک میں مقیم بین المذاہب لیڈر امام شمسی علی نے بھی اسی طرح کا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ یوگا انٹرنیشنل یو ایس اے کے منتظمین باوا جین اور دلیپ جی کمار کی دعوت پر شرکت کیلئے گئے تھے، انہیں علم نہیں تھا کہ بھاگوت اس تقریب کے مرکزی مہمان ہوں گے۔ علی نے کہا کہ ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ تقریب موہن بھاگوت کے اعزاز میں منعقد کی گئی ہے تو میں فوری طور پر انکار کر دیتا۔“ انہوں نے بھاگوت کے امن سے متعلق بیانات کو محض ”زبانی جمع خرچ“ قرار دیا جو ہندوستان میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو درپیش امتیازی سلوک سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریب کی اصل نوعیت جاننے کے بعد انہوں نے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں اس کے اگلے حصے میں شرکت سے انکار کر دیا اور اپنی ابتدائی شرکت کو ”فیصلے کی ایک سنگین غلطی“ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ”آر ایس ایس کی جانب سے لاحق خطرات حقیقی ہیں“: برطانیہ میں موہن بھاگوت کے بائیکاٹ کا مطالبہ
آر ایس ایس پر تنقید
ٹی ایم سی کی راجیہ سبھا رکن ساگریکا گھوش نے تھورن کے ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اس پیش رفت کو ”انتہائی پریشان کن“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس ”ہمیشہ چھپتی، پردہ ڈالتی اور کھلے عام سامنے آنے سے بچتی نہیں رہ سکتی۔“ سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ یہ بات ”حیران کن“ ہے کہ آر ایس ایس کو شرکاء کو قائل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ جن لوگوں کو بھاگوت کی موجودگی کا پہلے سے علم ہوا انہوں نے شرکت سے انکار کر دیا، جبکہ شرکت کرنے والے بعض دیگر افراد نے بعد میں پچھتاوے کا اظہار کیا۔