حجاب کے خلاف قابل اعتراض اور نفرت انگیز مہم کے بعد کالج انتظامیہ ’یونیفارم کوڈ‘ نافذ کرنے کی تیاری میں۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 12:35 PM IST | Agency | Guwahati
حجاب کے خلاف قابل اعتراض اور نفرت انگیز مہم کے بعد کالج انتظامیہ ’یونیفارم کوڈ‘ نافذ کرنے کی تیاری میں۔
آسام کے ضلع سلچر میں واقع کچھار کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کے خلاف قابل اعتراضات اور نفرت انگیز مہم کے بعد کالج انتظامیہ یونیفارم کوڈ نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسی دوران اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے اراکین کی جانب سے مسلم طالبات پر مبینہ حملہ کے بعد طلبہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔یہ جھڑپ اے بی وی پی اور نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی جانب سے چلائی جانے والی رکنیت سازی مہم کے دوران ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: سوال پوچھنے پر طلبہ کوکارروائی اور سزا کی دھمکی نہیں دی جاسکتی : جسٹس اجل بھوئیاں
ذرائع کے مطابق بحث اس وقت شروع ہوئی جب اے بی وی پی کے کچھ اراکین نے این ایس یو آئی کے کیمپ میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کی موجودگی پر اعتراض کیا۔ بعد ازاں یہ معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا، جس میں کئی طلبہ زخمی ہوگئے۔مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مسلم طالبہ نے الزام عائد کیا کہ اے بی وی پی کے اراکین نے ابتدا میں ان سے کہا کہ کچھار کالج ایک تعلیمی ادارہ ہے، جہاں مذہب کی کوئی جگہ نہیں ہے، لیکن اس کے بعد انہوں نے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانا شروع کر دئیے۔ طالبہ نے کہا ’’آج آپ حجاب پہن رہی ہیں، کل یہاں نماز پڑھنا شروع کر دیں گی۔ جب یہاں پوجا ہوتی ہے تو ہم کبھی سوال نہیں کرتے کہ یہ کیوں ہو رہی ہے۔ پھر وہ ہمارے حجاب پر سوال کیوں اٹھا رہے ہیں؟‘‘طالبہ نے بتایا کہ اے بی وی پی کے اراکین نے یہ جھوٹا دعویٰ بھی پھیلایا کہ طالبات اپنے حجاب کے اندر ہیڈ فون چھپا کر رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا ’’اگر ایسا ہے تو امتحانات سے پہلے طلبہ کی جانچ کے لیے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔‘‘طالبہ نے دعویٰ کیا کہ این ایس یو آئی کی رکنیت سازی مہم کالج کے پرنسپل کی اجازت سے منعقد کی گئی تھی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اے بی وی پی کے اراکین نے رکنیت سازی کا رجسٹر چھیننے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے:نیپال میں پھنسے متعدد ہندوستانی وطن واپس
’’اے بی وی پی نےہمارے کارکنوں پر حملہ کیا‘‘
این ایس یو آئی نے الزام عائد کیا کہ اے بی وی پی کے اراکین نے اسکے کارکنوں پر حملہ کیا اور واقعہ کو دبانے کیلئے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کیا۔ واقعے کے ۲؍ روز بعد الگاپور-کاتلی چیرا کے رکن اسمبلی اور آسام پردیش یوتھ کانگریس کے صدر زبیر انعام مجمدار نے بھی کالج کیمپس اور اسکے اطراف طلبہ کی سیکوریٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یونیفارم سے متعلق ضابطے تمام طلبا پر یکساں طور پر نافذ ہونے چاہئیں اور کسی مخصوص فرقہ کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جانا چاہیے۔مجمدار نے یوتھ کانگریس کے نمائندوں کے ہمراہ کچھار کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پی پی داس سے ملاقات کی اور معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا۔