فوج اورہائیڈرولک پروجیکٹ کے انجینئرس انہیں بچانے کیلئے کوشاں۔ ایک پائپ داخل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ۵۸۹؍ غیرملکی شہری اب بھی لاپتہ جن میں کیلاش پربت جانے والے ہندوزائرین بھی شامل۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 1:22 PM IST | Agency | Kathmandu
فوج اورہائیڈرولک پروجیکٹ کے انجینئرس انہیں بچانے کیلئے کوشاں۔ ایک پائپ داخل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ۵۸۹؍ غیرملکی شہری اب بھی لاپتہ جن میں کیلاش پربت جانے والے ہندوزائرین بھی شامل۔
تباہ کن سیلاب کے دوران نیپال میں سب سے اہم ریسکیو آپریشن تریشولی تھری اے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی سرنگ میں جاری ہے جہاں بڑی تعداد میں کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ نیپالی فوج اور انجینئرس سرنگ میں ایک پائپ داخل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب اس چھوٹے راستے سے اندر ہوا پہنچائی جا رہی ہے۔تاہم رات بھر ہونے والی بارش اور دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ کھدائی کی جگہ پانی سے بھر گئی تھی لیکن بعد میں حالات بہتر ہونے پر امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
اس خطے میں بڑے پیمانے پر ہائیڈرو پاور منصوبے موجود ہیں اور نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی کے مطابق لاپتہ افراد میں ۹۳۳؍ ہائیڈرو پاور ورکرس بھی شامل ہیں۔ اس سانحے نے غیر ملکی سیاحوں اور ہندو زائرین کو بھی متاثر کیا ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق۵۸۹؍ غیر ملکی شہری تاحال لاپتہ ہیں جن میں ٹریکرز کے علاوہ تبت میں کیلاش پربت جانے والے ہندو زائرین بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: سیلاب تو تھم گیا، آنسو نہیں تھم رہے
اسکول ٹیچرکی حاضر دماغی ، ۹۰۰؍طلبہ کی جان بچ گئی
سیلاب سے تباہ ہونے والے نیپالی اسکول کے ہیڈ ٹیچر کی حاضر دماغی کی وجہ سے کم از کم ۹۰۰؍ طلبہ کی جان بچ گئی۔ اس سلسلے میں ٹیچر نے بتایا کہ علاقے میں سیلاب کے خطرے کے کئی کالز موصول ہونے کے بعد انہیں تقریباً۹۰۰؍ طلبہ کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلئے کہا گیا۔راجندر داوادی جو نواکوٹ میں تریبھون تریشولی سیکنڈری اسکول کے ہیڈہیں ،کا کہنا ہے کہ انھیں چند منٹوں میں مختلف لوگوں سے ۴؍ وارننگ موصول ہوئیں جن میں یہ اطلاعات بھی تھیں کہ سیلاب کا پانی پہلے ہی بیتراوتی کی اپ اسٹریم بستی سے گزر چکا ہے۔ اسی وقت اس نے کال کی۔ انہوں نے نیوزایجنسی کو بتایا کہ ’’میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ اگر سیلاب نہیں آرہا تھا تو یہ صرف ایک دن کی کلاسوں کا معاملہ تھا۔‘‘
جب وہ اونچے گراؤنڈپر آئے تو داوادی نے دریا سے تقریباً ۱۰۰؍ میٹر (۳۲۸؍فٹ) کے فاصلے پر ایک ہاسٹل کی عمارت کو سیلابی پانی کی زد میں دیکھا۔انہوں نے بتایا کہ ’’ اگر ہم نے فیصلہ۱۰؍ منٹ بعد کیا ہوتا تو ہم سب بشمول طلبہ اور میں آج آپ سے بات نہ کر پاتے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:نیپال میں پھنسے متعدد ہندوستانی وطن واپس
’’میری آنکھوں کے سامنے پورا بازار بہہ گیا‘‘
ہیڈ ٹیچر کے فیصلے سے بچ جانے والے ۹۰۰؍طالب علموں میں شامل ۱۶؍سالہ یونیشا تھینے بتایا کہ وہ سیلاب سے چند لمحے پہلے ہی بچ نکلی تھی۔ اس نے کہا کہ ’’میں، اپنے دوستوں کے ہمراہ صرف ۱۰؍ سیکنڈ کے وقفہ سےبچنے میں کامیاب رہی۔‘‘یونیشا دیگر طلبہ کے ساتھ اسکول کے پیچھے ایک تنگ اور کیچڑ بھرے راستے سے بھاگی تھی۔اس نےبتایا کہ ’’کچھ ہی دیر میں پورا بازار میری آنکھوں کے سامنے بہہ گیا ۔‘‘یونیشا جس کا ان کی والدہ سبینا شریستھا کے ساتھ انٹرویو کیا گیا تھا، کہتی ہیں کہ سیلاب کی خبر سننے کے بعد اہل خانہ نے ان سے رابطہ کرنے کی کئی گھنٹےکافی کوشش کی۔ ۳؍ دن بعد جب یونیشا ملی تو والدین نے راحت کی سانس لی۔
۶؍ سالہ بچی ۳؍ دن بعد زندہ نکلی
دریں اثناءنیپال میں امدادی کارکنوں نے۶؍ سالہ بچی کو ۳؍ دن بعد سیلاب کے ملبے سے زندہ نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔غیر ملکی میڈیا کی خبروں کے مطابق ضلع رسووا میں تباہ کن سیلاب کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ رسووا ضلع کا گاؤں تیمورے حال ہی میں بھوٹے کوشی دریا میں طغیانی کے باعث آنے والے سیلاب سے شدید متاثر ہوا تھا۔زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے دوران آرمڈ پولیس فورس (اے پی ایف) کے اہلکاروں نے ملبے سے مدھم آواز میں رونے کی آوازیں سنیں تو فوراً کھدائی شروع کی اور بالآخر بچی کو تلاش کر کے بحفاظت باہر نکال لیا۔ابتدائی طور پر بچی کو تیمورے میں قائم اے پی ایف کی بارڈر آؤٹ پوسٹ میں طبی امداد فراہم کی گئی۔ تاہم اس کی حالت بگڑنے پر اسے فوری طور پر بہتر طبی سہولت کی ضرورت پیش آئی۔حکام نے اسے فضائی راستے سے کھٹمنڈو منتقل کرنے کا انتظام کیا۔ تاہم خراب موسم اور حدِ نگاہ کم ہونے کے باعث پرواز میں تاخیر ہوئی۔امدادی کارکنوں نے ہفتے کی دوپہر تک بچی کی حالت مستحکم رکھی۔ موسم کی صورتحال میں بہتری آنے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے کھٹمنڈو کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔بچی کو اب ماہرین کی زیر نگرانی خصوصی علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔