بسوا شرما نے کہا کہ ریاست میں ایس آئی آرکے بعدحتمی انتخابی فہرست میں جہاں بڑی تعداد میں نام ہٹائے گئے ہیں، وہیں کئی لاکھ نئے نام جوڑے بھی گئے ہیں، بی جے پی کارکنوں کی تعریف بھی کی
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 10:04 AM IST | Guwahati
بسوا شرما نے کہا کہ ریاست میں ایس آئی آرکے بعدحتمی انتخابی فہرست میں جہاں بڑی تعداد میں نام ہٹائے گئے ہیں، وہیں کئی لاکھ نئے نام جوڑے بھی گئے ہیں، بی جے پی کارکنوں کی تعریف بھی کی
جیسا کہ الیکشن کمیشن پرالزام عائد کیاجارہا ہے کہ وہ بی جے پی کے اشاروں پر کام کررہا ہے اورایس آئی آر کے ذریعہ بڑے پیمانے پر بی جے پی کے مخالف ووٹروں کے نام کاٹے جارہے ہیں، آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے ایک طرح سے ان الزامات کی توثیق کردی ہے۔ مسلم مخالف بیانات کیلئے بدنام بسوا شرما نے کہا کہ آسام میں بی جے پی کارکنوں کی شکایت پر لاکھوں ووٹرس کے نام فہرست سے خارج کردیئے گئے ہیں۔ ایک دن قبل اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاست میں ووٹر فہرست کی خصوصی نظرثانی کے بعد حتمی انتخابی فہرست میں اب ۲؍ کروڑ ۴۹؍ لاکھ ۵۸؍ ہزار ۱۳۹؍ نام رہ گئے ہیں ، حالانکہ ایس آئی آر کے بعد اس فہرسٹ میں ۲؍ کروڑ ۵۲؍ لاکھ ایک ہزار ۶۲۴؍ نام تھے لیکن بی جے پی کارکنوں کی شکایت کے بعد ۲؍ لاکھ ۴۳؍ ہزار ۴۸۵؍ نام خارج کردیئے گئے ہیں۔اس ’کام‘ کیلئے انہوں نے بی جے پی کارکنوں کی جم کر تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ذمہ دار اور فعال کارکنوں کی وجہ سے ہی ریاست کی فہرست رائے دہندگان سے بڑی تعداد میں مشتبہ اور ’ڈی ووٹرس‘ کو باہر کا راستہ دکھایا جاسکا ہے۔
آسام کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) انوراگ گوئل نے بھی میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے ذریعہ بتائے گئے اعداد و شمار کی توثیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ شائع شدہ حتمی انتخابی فہرست کے مطابق، آسام میں کل اہل ووٹرز کی تعداد ۲؍ کروڑ ۴۹؍ لاکھ، ۵۸؍ ہزار ۱۳۹؍ ہے، جن میں ایک کروڑ ۲۴؍ لاکھ ۸۲؍ ہزار ۲۱۳؍ مرد، ایک کروڑ ۲۴؍ لاکھ ۷۵؍ ہزار ۵۸۳؍خواتین اور تیسری صنف کے زمرے میں کل ۳۴۳؍ ووٹرز شامل ہیں۔
اس سے قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا کہ آسام میں’خصوصی جامع نظرثانی‘ کے بعد بھی مزید نام نکالے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جےپی کارکنوں نے بڑے پیمانے پر شکایات درج کرائیں ، جن کی بنیاد پر بہت سارے نام نکالے گئے گئے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آسام معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مشتبہ ووٹرز کے نام اتنی بڑی تعداد میں خارج کئے گئے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے کارکنوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی گئیں، اس کے باوجود بی جے پی کارکنوں نے یہ کام کر دکھایا۔ ان کی ہمت کی وجہ ہی سے ہم غیر ملکیوں کے نام مٹانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ آسام میں غیر قانونی غیر ملکیوں اور بنگلہ دیشیوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہماری اس مہم سے ’اسمیا‘ نہیں صرف’میاں‘ پریشان ہیں۔
چیف الیکٹورل افسر نےبڑے پیمانے پر ناموں کے ہٹانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ’’اس مہم کے دوران۴؍لاکھ ۷۸؍ ہزار۹۹۲؍ فوت شدہ ووٹرز کی شناخت کی گئی، جبکہ۵؍ لاکھ ۲۳؍ ہزار۶۸۰؍ ایسے ووٹرز پائے گئے جو دوسری جگہوں پر منتقل ہو چکے ہیں۔ان کے علاوہ۵۳؍ ہزار ۶۱۹؍ ایسے رائے دہندگان کی بھی شناخت ہوئی ہے جن کے نام ’ملٹی پل انٹریز‘ (ایک سے زیادہ بار اندراج) تھے، ان تمام ناموں کو حذف کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مہم کے دوران۱۸؍ سال سے زائد عمر کے ۶؍ لاکھ ۲۷؍ ہزار۶۹۶؍ ایسے افراد پائے گئے جو ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ نہیں تھے،اسلئے انہیں فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر نئے ناموں کے اندراج کے بعد بھی مجموعی فہرست میں تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کے نام کم ہوگئے ہیں۔
خیال رہے کہ مسلمانوں کے خلاف آسام کے وزیراعلیٰ کی زہرافشانی مسلسل جاری ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر جو نام ہٹائے گئے ہیں، ان میں اکثریت مسلم رائے دہندگان ہی کی ہوسکتی ہے۔