Updated: February 12, 2026, 10:08 PM IST
| Dhaka
بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ملک میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات کو ’’ غیر قانونی اور غیر آئینی‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم ٹرن آؤٹ اور اپوزیشن کے بائیکاٹ نے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم سیخ حسینہ۔ تصویر: آئی این این
بنگلہ دیش کی سیاست ایک نئے موڑ پر آ گئی ہے۔ معزول وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی صدر شیخ حسینہ نے حالیہ عام انتخابات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’ووٹروں کے بغیر، غیر قانونی اور غیر آئینی‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ شیخ حسینہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انتخابی عمل میں عوامی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی، جبکہ متعدد حلقوں میں اپوزیشن جماعتوں نے بائیکاٹ کیا۔ ان کے مطابق جب بڑی سیاسی قوتیں انتخابی عمل سے باہر ہوں اور ووٹر ٹرن آؤٹ انتہائی کم ہو، تو ایسے انتخابات عوامی مینڈیٹ کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا تناسب غیر معمولی طور پر کم تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام نے انتخابی عمل پر اعتماد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جمہوریت صرف بیلٹ پیپر سے نہیں چلتی، بلکہ اس کے لیے عوام کا فعال اعتماد اور شرکت ضروری ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یورپی ممالک سے اقوام متحدہ اور کثیرفریقی نظام کے تحفظ کی اپیل
رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابات اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے غیر منصفانہ ماحول کے الزامات کے سائے میں منعقد ہوئے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا تھا کہ سرکاری دباؤ، گرفتاریاں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں انتخابی فضا کو متاثر کر رہی ہیں۔ حکومتی حلقوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات آئینی تقاضوں کے مطابق منعقد ہوئے۔ شیخ حسینہ نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ نتائج کو تسلیم کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ پورے انتخابی عمل کا آزادانہ جائزہ لے اور اگر ضروری ہو تو دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے شفافیت بنیادی شرط ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے پاکستان کو استعمال کیا پھر ٹوائلٹ پیپر کی طرح پھینک دیا: خواجہ آصف
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں سیاسی تقسیم گہری ہو چکی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے بارے میں مختلف بیانات سے سیاسی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ شفاف تحقیقات سے عوامی اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے بھی بنگلہ دیش کے انتخابی عمل پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ بعض تنظیموں نے ووٹنگ کے ماحول اور سیاسی آزادیوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں، تاہم سرکاری نتائج کو آئینی عمل کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ شیخ حسینہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گی اور عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے ہر آئینی راستہ اختیار کریں گی۔ ان کے مطابق’’عوام کی مرضی کے بغیر قائم ہونے والی حکومت دیرپا نہیں ہو سکتی۔‘‘ حالیہ بیان نے بنگلہ دیش میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔ اب نظریں الیکشن کمیشن اور عدالتی اداروں پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس مطالبے پر کوئی باضابطہ کارروائی کرتے ہیں یا نہیں۔ ملک میں آئندہ دنوں میں سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔