Updated: February 12, 2026, 10:08 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ملاقات میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر ج ڈی وینس نے تہران کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو امریکہ کے پاس ’’دیگر آپشنز‘‘ بھی موجود ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے کے دوران ایران کا جوہری پروگرام ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ کی ترجیح سفارتی حل ہے، اور اگر بات چیت کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جا سکتا ہے تو یہ خطے کے لیے بہتر ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے تو واشنگٹن کے پاس ’’متبادل راستے‘‘ موجود ہیں، جن میں سخت پابندیاں یا دیگر اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ اس ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام، اور اسرائیل کی سلامتی سے متعلق خدشات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اسرائیل طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ ایران کے جوہری عزائم نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: شاہ سلمان کی ملک گیر اپیل کے بعد آج نمازِ استسقاء ادا کی گئی
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو میں ایران کو واضح انتباہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سفارتی عمل کو موقع دینا چاہتا ہے، لیکن اگر ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود نہ کیا تو سخت ردعمل خارج از امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر آپشن میز پر ہے۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق کشیدگی دوبارہ بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ سابقہ جوہری معاہدے کے بعد مختلف ادوار میں مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار رہا ہے، جبکہ ایران کی افزودگی کی سطح پر عالمی خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے بھی ملاقات کے بعد بیان دیا کہ اسرائیل کسی ایسے معاہدے کی حمایت نہیں کرے گا جو ایران کو جوہری صلاحیت برقرار رکھنے کی اجازت دے۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی حمایت یافتہ تنظیموں کے کردار کو بھی زیر بحث لایا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: محمد یونس نے انتخاب کو خوف کی رات کا خاتمہ، امید کی صبح کا آغازکہا
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ایران کے معاملے پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم واشنگٹن سفارتی راستے کو مکمل طور پر ترک کرنے کے حق میں نہیں دکھائی دیتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارت کاری اور دباؤ کی حکمت عملی بیک وقت استعمال کی جا رہی ہے۔ ایک جانب مذاکرات جاری رکھنے کی بات کی جا رہی ہے، تو دوسری جانب ایران کو سخت پیغامات بھی دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے جوہری پروگرام میں پیش رفت محدود کرے۔ عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ مذاکراتی مرحلے پر مرکوز ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، بصورت دیگر مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔