• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عزم کو سلام: ہاتھوں سے محروم ’سورج‘ پیر سے پرچہ لکھتا ہے

Updated: February 13, 2026, 10:04 AM IST | Nanded

ضلع ناندیڑ کے ایک نوجوان طالب علم نے اپنی لگن، ثابت قدمی اور خود اعتمادی کے زور پر معذوری کو شکست دے کر سماج کے سامنے ایک متاثر کن مثال قائم کی ہے۔

Suraj reading the question paper in the examination room
امتحانی کمرہ میں سورج سوالیہ پرچہ پڑھتے ہوئے

ضلع ناندیڑ کے ایک نوجوان طالب علم نے اپنی لگن، ثابت قدمی اور خود اعتمادی کے زور پر معذوری کو شکست دے کر سماج کے سامنے ایک متاثر کن مثال قائم کی ہے۔ دونوں ہاتھ نہ ہونے کے باوجود بارہویں جماعت کا امتحان دینے والا۱۹؍ سالہ سورج شیوراج اُبالے پاؤں سے پرچہ لکھ کرآج کئی لوگوں کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے۔
 ٹی وی نائن مراٹھی کی رپورٹ کے مطابق سورج شیوراج اُبالے ناندیڑ ضلع کے مڈکھیڑ تعلقہ کے گاڑےگاؤں کا رہنے والا ہے۔ وہ پیدائشی طور پر دونوں ہاتھوں سے محروم ہے، مگر اس معذوری کو اس نے کبھی اپنی راہ کی رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ بچپن سے ہی اس کے والدین نے اسے عام بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ سورج کو بچپن میں گاؤں کی ضلع پریشد اسکول میں داخل کرایا گیا۔ پہلی جماعت کی استانی نے اس کی لگن کو پہچانا اور اسے پاؤں سے لکھنے کی مشق کروائی۔ اسی دن سے سورج نے پاؤں سے لکھنے کی عادت ڈال لی اور آج وہ نہایت آسانی سے پاؤں سے لکھ لیتا ہے۔سورج نے پانچویں تک کی تعلیم گاڑےگاؤں میں مکمل کی۔ اس کے بعد مزید تعلیم کیلئے وہ ناندیڑ شہر کے معذوروں کے اسکول گیا، جہاں اس نے ساتویں تک پڑھائی کی۔ پھر ڈونگرگاؤں کے معذور اسکول  دسویں جماعت تک کا مرحلہ مکمل کیا۔ دسویں کے امتحان میں سورج نے۶۴؍ فیصد نمبر حاصل کر کے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔
 دسویں کے بعد سورج نے آرٹس شعبے میں گیارہویں جماعت کے لئے کندھار کے شری شیواجی کالج میں داخلہ لیا۔ جسمانی مشکلات کے باعث وہ روز کالج نہیں جا پاتا، لیکن وہ گھر پر رہ کر روزانہ چار گھنٹے باقاعدگی سے مطالعہ کرتا ہے۔ اسی منظم محنت کی بدولت وہ آج پورے اعتماد کے ساتھ بارہویں کا امتحان دے رہا ہے۔ اس وقت سورج بارہویں جماعت کا امتحان دے رہا ہے ۔ اس کا ایگزام سینٹر کندھار کا شری شیواجی کالج  ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہاتھ نہ ہونے کے باوجود وہ پاؤں سے سو نمبر کا پرچہ محض تین گھنٹوں میں مکمل کر لیتا ہے۔ پاؤں سے لکھتے وقت اسے کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آتی بلکہ وہ نہایت اعتماد اور آسانی سے جوابات تحریر کرتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کرہر کوئی حیران رہ جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK