ضلعی سطح پر شیوسینا کارکنان کا ’ماتو شری‘ سے وفاداری کا عزم

Updated: June 24, 2022, 9:03 AM IST | ali imran | nagpure

بلڈانہ سے پرتاپ راؤ جادھو نے شیوسینا اور بی جےپی کے درمیان ممکنہ اتحاد کو بہتر قراردیا لیکن کہا کہ وہ ٹھاکرے خاندان کا سا تھ نہیںچھوڑیں گے، رام ٹیک سے کرپال تومانے نے کہا کہ وہ شیوسینک ہیں،باغی گروہ میںشامل ہونے کی خبروںکی تردید کی ، سیاسی بحران کے سبب ضلعی سطح پر سینا کارکنان میں بے چینی

Outside the assembly, a large number of Shiv Sena members are with uddhav thackeray
اسمبلی کے باہر بڑی تعداد میں شیوسینک ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں

شیوسینا میں بغاوت کے بعد ودربھ کے چار میں سے تین اراکین اسمبلی اور رکن پارلیمنٹ بھاؤنا گاؤلی شیوسینا باغی لیڈرایکناتھ شندے کے ساتھ ہیں۔جبکہ باقی اراکین پارلیمنٹ ، قانون ساز کونسل کے اراکین ،سابق رکن اسمبلی ،پارٹی عہدیداران نے  اُدھوٹھاکرے کے ساتھ  رہنے  کے عزم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہےکہ وہ  اُدھو ٹھاکرے کا ساتھ نہیں چھوڑیںگےکیونکہ وہی پارٹی کے سربراہ ہیں۔
  شیوسینا پارٹی کے انتخابی نشان پر منتخب ہونے والے ۴؍ اراکین اسمبلی کا تعلق مغربی ودربھ سے ہے جن میں  سے ایوت محل ضلع کے ڈگرس سے سنجے راٹھور،بلڈانہ ضلع سے رائیمولکر،میہکرسے سنجے گائیکواڑ،اکولہ ضلع کے بالا پور سے نتن دیشمکھ  شامل ہیں۔ان میں سے نیتن دیشمکھ کو چھوڑ کرتینوں رکن اسمبلی ایکناتھ شندے کے ساتھ ہیں۔ناگپور ضلع کے رام ٹیک رکن اسمبلی آشش جیسوال اور بھنڈارا کے رکن اسمبلی نریندر بھونڈیکر آزاد رکن اسمبلی شیوسینا سے وابستہ رہنے کے باوجود ایکناتھ شندے کے ساتھ ہیں۔ودربھ میں شیوسینا کے ۳؍ اراکین پارلیمنٹ ہیں جن میںایوت محل،واشم سے بھاؤنا گاؤلی،بلڈانہ سے  پرتاپ راؤ جادھو اور رام ٹیک سے کرپال تومانے شامل ہیں۔ پرتاپ راؤجادھو نے وہ ٹھاکرے خاندان کے ساتھ ہیں اوران کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے حالانکہ وہ شیوسینا بی جے پی اتحاد کے خلاف نہیں ہیںو۔ جبکہ کرپال تومانے نے باغی گروہ میں شامل ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔امراؤتی کے سابق رکن پارلیمنٹ ودئی اننت گوڑھے ، آنند راؤ اڑسول اورپرکاش جادھو ،اسی طرح ایم ایل سی رکن ا ور ناگپور کے پارٹی لیڈر دروشینت چترویدی   اور سابق رکن اسمبلی پارٹی کے سینئر لیڈر گوپی چند باجوریا اُدھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔پرہار کے لیڈر وزیربچوکڑو ،میل گھاٹ کے رکن اسمبلی راج کمار پٹیل،بھنڈارہ کے آزاد رکن اسمبلی نریندر بھونڈیکر کےبھی ایکناتھ شندے کے ساتھ شامل ہونے کی  خبر بدھ کی دیر رات ملی ۔ایوت محل کے سنجے راٹھور کے گوہاٹی جانے کی خبریں تھیں لیکن ضلع شیوسینا پرمکھ پراگ پنگڑے نے راٹھور کے ممبئی میں ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بغاوت کے بعد ضلعی سطح پر شیوسینکوں میں عدم استحکام کی کیفیت ہے لیکن وفاداری اب بھی’ماتوشری‘ کے ساتھ  برقرار ہے۔
 ادھرریاستی وزیر  اور اچل پور انتخابی حلقہ سے رکن اسمبلی بچو کڑو   اور ان کی  پارٹی پرہار جن شکتی پارٹی  سے منتخب میل گھاٹ کے رکن اسمبلی راج کمار بھی ایکناتھ شندے کے خیمے میں پہنچ چکے ہیں۔یہ دونوں ۲۱؍ جون تک شندے کے ساتھ نہیں تھے۔دودنوں بعد ان دونوں کے ایکناتھ شندے کے ساتھ جانے سے امراؤتی ضلع  کے سیاسی گلیاروں میں ہنگامہ مچاہوا ہے۔اہم بات یہ کہ ودربھ میں۶؍ سے زائد اراکین اسمبلی نے ایکناتھ شندے کے ساتھ جڑ نے کا دعویٰ کیا جارہاہے۔
باغیوں کا چندرپور کے آزاد رکن اسمبلی کشورجورگیوار کے رابطہ 
  شیوسینا باغیوں نے کشور جورگیوار سے رابطہ کرنے کی بات قبول کرتے ہوئے کہا کہ ایکناتھ شندے الگ پارٹی کی بنیاد ڈالنے کی کوشش میں ہے۔ایکناتھ شندے کا ساتھ دینے کا فیصلہ وہ اپنے حامیوں سے بات چیت کے بعد کرینگے۔
بھاؤناگاؤلی کاایکناتھ شندے کیساتھ رہنے کا فیصلہ 
 ایوت محل /واشم سے رکن پارلیمنٹ بھاؤنا گاؤلی نے ایک خط لکھ کر ایکناتھ شندے کے’ہندوتوانظریہ‘ کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنے کا جذباتی مشورہ دیا ہے۔خط میں یہ بھی درخواست کی گئی کہ شیوسینا اور اُس سے تعلق رکھنے والوں پر کسی قسم کی سخت کارروائی نہ کی جائے۔خط میں یہ بھی لکھا کہ اس مشکل گھڑی میں فیصلہ شیوسینا کیلئے کیا جائے۔واضح رہے کہ رکن پارلیمنٹ بھاؤنا گاؤلی کے خلاف واشم میں بالاجی پارٹیلکس کارخانہ فروخت کرنے اور دیگرلین دین میں بد عنوانی کی تفتیش ای ڈی کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK