Updated: August 06, 2026, 3:00 PM IST
| Jhansi
اتر پردیش کے مقتول گینگسٹر اور سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے سب سے چھوٹے بیٹے ابان احمد کی جھانسی ضلع میں ایک المناک سڑک حادثے میں موت ہو گئی۔ پولیس کے مطابق ابان احمد اپنے بڑے بھائی علی احمد سے ملاقات کے لیے جھانسی جیل جا رہے تھے، جب ان کی تیز رفتار ایس یو وی قومی شاہراہ پر ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں ابان احمد اور ان کے ساتھی سونو کی موقع پر ہی موت ہوگئی، جبکہ گاڑی میں سوار تین دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اتر پردیش کے جھانسی ضلع میں جمعرات کو پیش آنے والے ایک المناک سڑک حادثے میں مقتول گینگسٹر اور سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے سب سے چھوٹے بیٹے ابان احمد کی موت ہوگئی۔ پولیس کے مطابق ابان احمد اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پریاگ راج سے جھانسی جا رہے تھے، جہاں وہ جھانسی جیل میں بند اپنے بڑے بھائی علی احمد سے ملاقات کرنے والے تھے۔ راستے میں ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق حادثہ جھانسی ضلع کے پونچھ تھانہ علاقے میں پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تیز رفتار کریٹا ایس یو وی اچانک بے قابو ہو کر شاہراہ کے سیمنٹ ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ مقامی افراد اور پولیس اہلکاروں نے امدادی کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو گاڑی سے نکالا اور قریبی اسپتال منتقل کیا۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی: راہل گاندھی کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام کی اجازت منسوخ
حادثے میں ابان احمد اور ان کے ساتھی سونو موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، جن کا علاج جاری ہے۔ پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ بعض ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گاڑی کی رفتار زیادہ تھی، جبکہ ایک مقامی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سڑک پر اچانک ایک جانور آ جانے کے باعث ڈرائیور نے گاڑی موڑنے کی کوشش کی، تاہم پولیس کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
ابان احمد مقتول گینگسٹر اور سابق سیاستداں عتیق احمد کے پانچ بیٹوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے خاندان پر گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلسل سانحات پیش آتے رہے ہیں۔ اپریل ۲۰۲۳ء میں ان کے بھائی اسد احمد اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس کے ساتھ ایک انکاؤنٹر میں مارے گئے تھے۔ اس کے چند روز بعد عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کو پریاگ راج میں پولیس تحویل کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ابان احمد جھانسی جیل میں قید اپنے بھائی علی احمد سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ علی احمد مختلف مقدمات میں عدالتی تحویل میں ہیں۔ حادثے کے بعد پولیس نے اہل خانہ کو اطلاع دے دی ہے اور قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدید تر، مزید ۵؍ بھوک ہڑتال پر بیٹھے
اس واقعے کے بعد ایک بار پھر عتیق احمد کے خاندان کا نام سرخیوں میں آ گیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس خاندان کے کئی افراد قتل، انکاؤنٹر یا مختلف فوجداری مقدمات کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ ابان احمد کی اچانک موت کو خاندان کے لیے ایک اور بڑا صدمہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی مکمل وجوہات فرانزک اور تکنیکی جانچ کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔