جرمنی نے اقوام متحدہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات پر زور دیا،وزیر خارجہ جوہان ویڈیفول نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کہا، سب سے پہلے ہمیں ایک فعال اقوام متحدہ کی ضرورت ہے جو تنازعات کو محض سنبھالنے کے بجائے ان کے حل میں فعال کردار ادا کرے۔
EPAPER
Updated: September 27, 2026, 7:09 PM IST | New York
جرمنی نے اقوام متحدہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات پر زور دیا،وزیر خارجہ جوہان ویڈیفول نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کہا، سب سے پہلے ہمیں ایک فعال اقوام متحدہ کی ضرورت ہے جو تنازعات کو محض سنبھالنے کے بجائے ان کے حل میں فعال کردار ادا کرے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈیفول نے کہا کہ’’ ایک نئے سیکرٹری جنرل کی ضرورت ہے جو اصلاحات کے ایک گہرے عمل کی قیادت کرے۔ سب سے بڑھ کر، ہمیں اقوام متحدہ سے جو توقعات وابستہ ہیں اور اس تنظیم کو جو صلاحیتیں ہم دیتے ہیں، ان کے درمیان خلا کو پر کرنا ہوگا۔‘‘ واضح رہے کہ موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیوغطریس اس سال کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گے۔انہوں نے مزید کہا، ’’سب سے پہلے ہمیں ایک فعال اقوام متحدہ کی ضرورت ہے جو تنازعات کو محض سنبھالنے کے بجائے ان کے حل میں فعال کردار ادا کرے۔ ایسے وقت میں جب مرکزی فیصلہ ساز ادارے کے طور پر سلامتی کونسل مفلوج ہے، یہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ہمیں اس کی اصلاح کو اپنے ایجنڈے میں بلند رکھنا ہوگا،‘‘انہوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے بارے میں بھی خبردار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: جنگی مجرم کی جگہ عدالت کے کٹہرے میں ہے،نہ کہ اقوام متحدہ کے منبر پر: صدر اردگان
ذہن نشین رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے۱۹۳؍ رکن ممالک میں سے۱۵؍ پر مشتمل ہے۔ پانچ ایٹمی طاقتیں اور دوسری عالمی جنگ کے فاتح امریکہ، چین، روس، برطانیہ اور فرانسمستقل اراکین ہیں اور انہیں ویٹو کا حق حاصل ہے۔ جبکہ باقی۱۸۸؍ رکن ممالک میں سے کچھ ہر دو سال بعد باقی۱۰؍ نشستوں پر باری باری آتے ہیں۔ترکی طویل عرصے سے سلامتی کونسل کی اصلاح کے حق میں آواز اٹھاتا رہا ہے، جیسا کہ جرمنی، برازیل، ہندوستان اور جاپان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہفتے کے دوران اجتماعی طور پر کیا۔بعد ازاںنام نہاد گروپ آف فور کے وزرائے خارجہ نے منگل کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ’’ اس طرح کی اصلاحات تیزی سے چیلنجنگ جغرافیائی سیاسی ماحول کے پیش نظر پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی رکن کانگریس کا اسرائیل سے فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو رہا کرنے کا مطالبہ
ویڈیفول اور برازیل، ہندوستان اور جاپان کے ان کے ہم منصبوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی موجودہ شکل میں اپنا مرکزی مشن پورا کرنے سے قاصر ہے۔اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین ادارے کی نمائندگی، قانونی حیثیت اور عمل کی صلاحیت فی الحال سوالیہ نشان ہے۔ اس کی ایک وجہ آٹھ دہائیوں پرانی، غیر موزوں ساخت ہے۔ تاہم چاروں ممالک نے کہا کہ سلامتی کونسل کی موجودہ ترکیب موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں سے مناسب طور پر نمٹنے میں رکاوٹ ہے۔